جہلم: عدالت نے ضلع جہلم میں منشیات فروشی کے دو مختلف مقدمات کے فیصلے سناتے ہوئے ملزمان کو طویل قید اور بھاری جرمانوں کی سزائیں سنا دیں۔ دونوں مقدمات میں جہلم پولیس کی مؤثر تفتیش اور مضبوط پیروی کے باعث عدالت نے قرار واقعی سزائیں سنائیں۔
تفصیلات کے مطابق جہلم میں عدالت نے منشیات کے مقدمہ نمبر 732/24 بجرم CNSA 9(i)3e تھانہ دینہ کا فیصلہ سنایا۔ مقدمے کے مطابق مجرم مدثر الطاف نے سال 2024 میں منشیات فروشی کے جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ معزز عدالت نے جرم ثابت ہونے پر مجرم مدثر الطاف کو 16 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنا دی۔
اسی طرح عدالت نے ایک اور منشیات کے مقدمہ نمبر 330/24 بجرم CNSA 9(ii)6 تھانہ چوٹالہ کا فیصلہ بھی سنا دیا۔ اس مقدمے میں مجرم خرم شہزاد نے سال 2024 میں منشیات فروشی کے جرم کا ارتکاب کیا تھا، جس پر معزز عدالت نے جرم ثابت ہونے پر اسے 5 سال قید اور 1 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔
جہلم پولیس کے مطابق دونوں مجرمان کو جدید تفتیشی طریقہ کار کے تحت ٹریس کر کے گرفتار کیا گیا، جبکہ ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان عدالت میں پیش کیا گیا اور مقدمات کی مؤثر پیروی کی گئی، جس کے نتیجے میں عدالت نے ملزمان کو قرار واقعی سزا سنائی۔
اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم طارق عزیز سندھو نے کہا کہ منشیات فروش معاشرے کا ناسور ہیں اور ان کے مکمل خاتمے کے لیے بھرپور اور بلاامتیاز آپریشن جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ نوجوان نسل کو تباہ کرنے والوں کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
ڈی پی او جہلم نے ان کامیاب عدالتی فیصلوں پر پولیس کی انوسٹیگیشن اور لیگل ٹیموں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں شاباش دی اور تعریفی سرٹیفکیٹس کے ساتھ نقد انعامات دینے کا اعلان بھی کیا۔
