جہلم میں ٹریفک جرمانوں کی بھرمار، مہنگائی سے پریشان شہری مزید مشکلات کا شکار

جہلم شہر اور گردونواح میں ٹریفک جرمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف مہنگائی نے پہلے ہی عوام کی کمر توڑ رکھی ہے جبکہ دوسری جانب بھاری ٹریفک جرمانے غریب اور متوسط طبقے کے لیے ایک نئے مالی بوجھ کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔

شہریوں کے مطابق روزگار کے محدود مواقع، بجلی، گیس اور دیگر یوٹیلٹی بلوں میں مسلسل اضافہ اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ایسے حالات میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر عائد کیے جانے والے بھاری جرمانے عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن رہے ہیں۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک قوانین کی پابندی ہر شہری کی ذمہ داری ہے اور قانون پر عملدرآمد یقینی بنایا جانا چاہیے، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کو صرف جرمانوں پر انحصار کرنے کے بجائے عوام میں شعور و آگاہی پیدا کرنے اور اصلاحی اقدامات پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

شہریوں نے شکایت کی کہ بعض اوقات معمولی نوعیت کی خلاف ورزیوں پر بھی ایسے جرمانے عائد کیے جاتے ہیں جو ایک مزدور یا کم آمدن والے شخص کی کئی دنوں کی کمائی کے برابر ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں ایسے جرمانے غریب طبقے کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

شہریوں اور مختلف سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ جون اور جولائی کے دوران ٹریفک چالانوں کے حوالے سے نرمی اختیار کرنے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سفید پوش اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد پہلے ہی شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں اور انہیں مزید بوجھ تلے دبانے کے بجائے سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔

شہریوں نے تجویز دی کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے آگاہی مہمات، تربیتی پروگرامز اور وارننگ سسٹم کو فروغ دیا جائے تاکہ شہری قوانین سے آگاہ ہو سکیں اور جرمانوں کی شرح میں بھی کمی لائی جا سکے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت اگر ایک طرف مہنگائی کے اثرات کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے تو دوسری جانب ایسے معاملات میں بھی عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے متوازن پالیسی اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button