پہلگام پر بھارت بے لگام

پہلگام کا واقعہ بظاہر ایک افسوسناک حملہ ہے، جس میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا، لیکن اس واقعے سے کہیں زیادہ افسوسناک وہ ردعمل ہے جو بھارت کی جانب سے سامنے آیا۔ ایک طرف انسانی جانوں کے ضیاع پر ماتم ہونا چاہیے تھا، دوسری جانب دہلی نے ایک بار پھر اپنی "سدا بہار چال” چلی: انگلی پاکستان کی جانب!
بھارت کا جنگی جنون، سفارتی غیر سنجیدگی اور فالس فلیگ کا پرانا وتیرہ، ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گیا۔ پہلگام میں حملے کے 24 گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ دہلی میں "وار روم” فعال ہو گیا۔ بغیر کسی تحقیق، شواہد اور فیکچوئل بریفنگ کے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرا دیا گیا۔ وہی گھسا پٹا اسکرپٹ: دہشت گرد پاکستان سے آئے، سرحد پار کی، اور حملہ کر دیا!
کیا یہ سوال نہیں اٹھتا کہ مقبوضہ کشمیر جیسے سخت سیکیورٹی زدہ علاقے میں غیر ریاستی عناصر اس قدر آسانی سے حملہ کر کے نکل کیسے جاتے ہیں؟ اگر بھارتی افواج کی موجودگی کے باوجود ایسے واقعات ہوتے ہیں، تو ذمہ داری کس کی ہے؟ اور اگر یہ سب ایک "اندرونی کھیل” ہے، جیسا کہ ماضی کی کئی مثالیں ثابت کر چکی ہیں، تو پھر اس کا حساب کون دے گا؟
یہ محض اتفاق نہیں کہ ہر بار عالمی برادری کی نظریں بھارت پر ہوں، کوئی اہم غیر ملکی دورہ متوقع ہو، یا سفارتی ناکامی دہلی کے دروازے پر ہو، عین اسی وقت ایک ’’حملہ‘‘ ہو جاتا ہے، جس کا مقصد واضح ہوتا ہے . پاکستان کو بدنام کرنا، اور اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانا۔
چاہے وہ 2000 میں بل کلنٹن کے دورہ بھارت کے دوران سکھوں کا قتل عام ہو، یا 2019 کا پلوامہ واقعہ . بھارت کا ریکارڈ جھوٹ، ڈرامے اور الزام تراشی سے بھرا پڑا ہے۔ پہلگام کا واقعہ بھی اسی ’’سیاسی ہتھکنڈے‘‘ کا حصہ لگتا ہے۔
اب بھارت نے نہ صرف سندھ طاس معاہدہ معطل کیا، بلکہ پاکستانی شہریوں کو ملک چھوڑنے کا حکم بھی جاری کر دیا۔ سفارتی عملے میں کمی، سرحدی سختیاں، اور جنگی بیانات — یہ سب کیا ظاہر کرتے ہیں؟ ایک ذہنی بوکھلاہٹ، ایک کھلی اشتعال انگیزی۔
وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا درست ہے کہ پاکستان اب کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی پوزیشن میں ہے۔ بھارت کو ابھینندن یاد ہے، اور اگر اُس کی یادداشت کمزور پڑ گئی ہو تو ہم اسے پھر سے یاد دلا سکتے ہیں .بڑے دھماکے کے ساتھ۔
پہلگام پر بھارت کا ردعمل نہ صرف غیر ذمے دارانہ ہے بلکہ جنوبی ایشیا کے امن کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ عالمی برادری کو اس "فالس فلیگ تھیٹر” کا تماشائی بننے کے بجائے، اس کا نقاب اتارنا ہوگا۔
پاکستان کی پوزیشن واضح ہے: ہم نہ صرف دہشت گردی کا شکار رہے ہیں بلکہ عالمی سطح پر اس کے خلاف موثر جنگ بھی لڑی ہے۔ اگر بھارت سمجھتا ہے کہ جنگی بیانیے اور سازشوں سے وہ دنیا کو گمراہ کر لے گا، تو یہ اس کی تاریخی غلط فہمی ہے۔
(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)



