راوی کیا دیکھتا ہے

راوی نے دیکھا کہ ڈپٹی کمشنر سید میثم عباس اور ڈی پی او جہلم طارق عزیز سندھو جلوس اور مجالس کو پُرامن بنانے کے لیے دن رات کوشاں رہے۔ محرم الحرام کے آغاز سے کئی ہفتے قبل پلان کو مرتب کر لیا گیا تھا۔ نہ موبائل سروس بند ہوئی، نہ شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات ہوئیں۔ بہترین حکمتِ عملی کی بدولت دسویں محرم کے جلوس سخت سیکیورٹی حصار میں اپنے اپنے روایتی راستوں سے ہوتے ہوئے پُرامن طور پر اختتام پذیر ہوئے اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
راوی نے آج یہ بھی دیکھا کہ دسویں محرم کو ضلع بھر میں علم، تعزیے اور ذوالجناح کے جلوس برآمد ہوئے۔ جلوس کے شرکا نے روایتی انداز میں نوحہ خوانی اور ماتمداری کرتے ہوئے حضرت امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا کو پرسہ پیش کیا۔
ذاکرین اور علمائے کرام نے عظیم شہادت اور لازوال قربانی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا اور حضرت امامِ عالی مقام علیہ السلام کی تعلیمات اور سانحۂ کربلا کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ سبیلوں اور نیاز کا اہتمام کیا گیا اور فاتحہ خوانی کی گئی۔ جلوس کے راستوں پر بھی جگہ جگہ لنگر و نیاز کا اہتمام کیا گیا اور دودھ و پانی کی سبیلیں لگائی گئیں۔
راوی نے آج یہ بھی دیکھا کہ ڈی پی او جہلم طارق عزیز سندھو کی جانب سے جلوسوں کے راستوں پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ جلوس کے داخلی اور خارجی راستے خاردار تاروں سے سیل کیے گئے تھے۔ جلوسوں، امام بارگاہوں اور حساس مقامات سمیت شہر بھر کی مانیٹرنگ کے لیے جدید سہولیات سے آراستہ خصوصی کنٹرول رومز اور سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے کڑی نگرانی کی گئی۔
عزاداروں کی سہولت کے لیے ایمبولینس، ریسکیو 1122، فائر بریگیڈ، واپڈا، ضلعی انتظامیہ، سیکیورٹی برانچ، اسپیشل برانچ، خفیہ ایجنسیاں سمیت تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار و افسران جلوسوں کے ہمراہ تعینات تھے۔ راوی دیکھتا ہے کہ ریسکیو 1122، محکمہ صحت اور سول ڈیفنس سمیت مختلف تنظیموں کے رضاکاروں کی جانب سے مختلف مقامات پر طبی کیمپس بھی لگائے گئے۔
پولیس کے تمام ونگز کو بہترین فول پروف سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ سیف سٹی کیمروں کے سی سی ٹی وی کے ذریعے بھی جلوس کی مناسب نگرانی کی گئی۔
(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)



