جہلم شہر اور گردونواح میں مضر صحت اور لاغر بیمار نیم مردہ جانوروں کے پانی ملے گوشت کی فروخت کھلے عام جاری ہے، جس پر شہریوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جہلم شہر اور اس کے مضافاتی علاقوں میں قصاب مضر صحت گوشت فروخت کر رہے ہیں، جس میں لاغر اور بیمار جانوروں کا گوشت بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ گوشت میں پانی ملا کر وزن بڑھانے کا غیر قانونی عمل بھی جاری ہے۔ گوشت کی قیمتیں سرکاری نرخ نامے سے کہیں زیادہ وصول کی جا رہی ہیں۔
سرکاری نرخ نامے کے مطابق بڑے گوشت کی قیمت 800 روپے فی کلو مقرر ہے، لیکن یہ 1,000 سے 1,200 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح چھوٹے گوشت کی سرکاری قیمت 1,600 روپے فی کلو ہے، لیکن مارکیٹ میں یہ 2,000 سے 2,200 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کیا جا رہا ہے۔
شہریوں نے شکایت کی ہے کہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ وہ صرف ریڑھی بانوں کو جرمانے کرکے بری الذمہ ہو جاتے ہیں، جبکہ قصابوں کے خلاف کسی قسم کی مؤثر کارروائی نہیں کی جاتی۔
شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری نوٹس لیں اور مضر صحت گوشت کی فروخت روکنے کے لیے سخت اقدامات کریں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گراں فروشی اور غیر معیاری گوشت فروخت کرنے والے قصابوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ عوام کی صحت کو محفوظ بنایا جا سکے۔
عوام کا کہنا ہے کہ مضر صحت گوشت کی فروخت سے صحت کے سنگین مسائل پیدا ہو رہے ہیں، جن میں فوڈ پوائزننگ، پیٹ کی بیماریاں اور دیگر مہلک امراض شامل ہیں۔ اگر حکومت نے فوری طور پر کارروائی نہ کی تو یہ مسئلہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
