جہلم میں چینی کا بحران شدت اختیار کر گیا، بلیک مارکیٹنگ اور گران فروشی پر شہری سراپا احتجاج

جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں چینی کا بحران سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔

چینی ڈیلرز کی من مانیاں اپنے عروج پر ہیں، ایک جانب بازاروں سے چینی غائب ہے تو دوسری جانب بلیک مارکیٹنگ عروج پر ہے۔ دکاندار چینی اپنی من مرضی کے نرخوں پر فروخت کر رہے ہیں، جبکہ انتظامیہ کی جانب سے کوئی چیک اینڈ بیلنس نظر نہیں آ رہا۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ پرائس کنٹرول کمیٹیاں مکمل طور پر غیر فعال ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کو کھلی چھوٹ مل گئی ہے۔

دوسری جانب مرغی کے گوشت کی قیمت بھی حکومتی کنٹرول سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ سرکاری نرخ 595 روپے فی کلو مقرر ہونے کے باوجود دکاندار 620 روپے میں فروخت کر رہے ہیں، وہ بھی مکمل ایک کلو کے بجائے صرف ساڑھے آٹھ سو گرام دے کر۔ مہنگائی اور کم وزن اشیاء فروخت کیے جانے پر غریب اور سفید پوش طبقہ شدید پریشانی کا شکار ہے۔

شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ گران فروشوں اور کم وزن فروخت کرنے والے دکانداروں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں اور بھاری جرمانے عائد کیے جائیں، تاکہ عام آدمی کو کچھ ریلیف مل سکے۔

Exit mobile version