جہلم میں تعمیراتی سائٹس پر سیفٹی کا فقدان، مزدوروں کی زندگیاں داؤ پر لگ گئیں

جہلم شہر میں تعمیراتی سرگرمیوں کے دوران مزدوروں کی جانوں کو درپیش خطرات روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔
جہلم کے گنجان آباد علاقوں اور نجی ہاؤسنگ کالونیوں میں بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر کے دوران محنت کش مزدور بغیر کسی حفاظتی انتظام کے جان ہتھیلی پر رکھ کر کام کرنے پر مجبور ہیں۔ بچوں کے لیے روزی کمانے والے یہ مزدور ہر روز سولی پر چڑھنے کے مترادف کام انجام دیتے ہیں جبکہ مالکان اور ٹھیکیداروں کی جانب سے ان کے تحفظ کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جا رہے۔
متعدد تعمیراتی مقامات پر مزدوروں کو نہ تو حفاظتی ہیلمٹ دیے جاتے ہیں، نہ سیفٹی ہارنس اور نہ ہی اونچائی پر کام کرتے وقت کسی قسم کی حفاظتی تربیت دی جاتی ہے۔ صرف چند ٹکوں کی بچت کی خاطر مزدوروں کی زندگیاں داؤ پر لگا دی جاتی ہیں جو کہ نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
شہری، سماجی، رفاعی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اس صورت حال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعمیراتی کمپنیوں کو سختی سے پابند کیا جائے کہ وہ ہر مزدور کے لیے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مزدوروں کی زندگیوں سے کھیلنا جرم کے مترادف ہے، لہٰذا صوبائی حکومت فوری نوٹس لے اور ایک جامع قانون سازی کے ذریعے تمام زیر تعمیر عمارتوں میں حفاظتی اصولوں کی پابندی کو لازمی قرار دے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو کسی بھی وقت کوئی بڑا سانحہ رونما ہو سکتا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ محکمہ لیبر، بلدیاتی ادارے اور دیگر متعلقہ ادارے مشترکہ حکمت عملی کے تحت سخت نگرانی کریں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے تاکہ محنت کش مزدور محفوظ طریقے سے اپنے بچوں کے لیے روزی کما سکیں۔



