سرکاری سکولوں کی نجکاری کے خلاف جہلم کے سکولوں میں تالا بندی شروع، بچوں کو گھر بھیج دیا گیا

جہلم: سرکاری سکولوں کی نجکاری کے خلاف جہلم میں سکولوں میں تالا بندی شروع ،صبح بچوں کو واپس سکول سے گھر بھیج دیا گیا۔

گورنمنٹ ہائی سکول جہلم سمیت متعدد سرکاری سکول غیر معینہ مدت کے لئے اساتذہ کی جانب سے تعلیمی بائیکاٹ کی وجہ سے بند کر دیا گیا اور بچوں کو گھر بھیج دیا گیا۔

گورنمنٹ ہائی سکول جہلم کے باہر اساتذہ کی جانب سے دھرنا دے دیا گیا، اساتذہ نے پلے کارڈ اٹھا رکھے ہیں، اساتذہ کا کہنا ہے کہ سکولوں کی نجکاری ، لیو انکیشمنٹ اور پینشن رولز میں ترمیم جیسے کالے اور ظالمانہ قوانین کے خلاف پرامن احتجاج جاری رہے گا.

ادھر پنجاب ٹیچرز یونین ضلع جہلم اور پنجاب ایجوکیٹرز ایسوسی ایشن ضلع جہلم نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتےہوئے کہا کہ سکولوں کی نجکاری ، لیو انکیشمنٹ اور پینشن رولز میں ترمیم جیسے کالے اور ظالمانہ قوانین کے خلاف پرامن احتجاج پر مرکزی قائدین کی گرفتاری شروع ہو چکی ہے۔ حکومتی ظالمانہ اقدامات اس بات کے متقاضی ہیں کہ تعلیمی بائیکاٹ کی بجائے تعلیمی اداروں کی تالا بندی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ 13 اکتوبر سے ضلع بھر کے تمام سرکاری سکولز کی تالا بندی کی جائے گی اور ڈینگی ایکٹیویٹی بھی نہیں کی جائے گی۔ طلبا کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ وہ تا حکم ثانی سکول نہ آئیں۔ طلبا کو یہ ذہن نشین کروائیں کہ نجکاری جیسے ظالمانہ اقدام سے انہیں سکول فیس کی مد میں ہزاروں روپے دینے ہوں گے تاکہ وہ والدین کو بھی آگاہ کریں۔

اساتذہ اور طلباء نے چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف سے نجکاری روکنے کا مطالبہ کیا ۔ ان کا کہاکہ والدین رکشہ چلا کر مزدوری کر کے ہمیں سرکاری سکولوں میں پڑھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی وجہ سے 50فیصد سفید پوش لوگوں نے اپنے بچے پرائیویٹ سکولوں سے سرکاری سکولوں میں داخل کروا دئیے ہیں، سرکاری سکولوں کی نجکاری نامنظور تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک فیصلہ واپس نہیں لیا جاتا۔

Exit mobile version