محرم الحرام کے ایام میں پیغام پاکستان ضابطہ اخلاق پر تمام مکاتب فکر عمل درآمد کریں، مرکزی علماء کونسل جہلم

جہلم: مرکزی علماء کونسل جہلم نے محرم الحرام کے مقدس ایام میں تمام مکاتبِ فکر سے اپیل کی ہے کہ وہ ’’پیغامِ پاکستان‘‘ ضابطہ اخلاق پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور ایسی ہر قسم کی گفتگو، تحریر یا طرزِ عمل سے گریز کریں جو آئین و قانون کے منافی ہو یا مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کا باعث بنے۔
مرکزی علماء کونسل جہلم کے رہنماؤں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ محرم الحرام حرمت، صبر، قربانی، اتحاد اور اخوت کا درس دینے والا عظیم مہینہ ہے۔ اس دوران امن، بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے تمام طبقات کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔
مرکزی علماء کونسل جہلم کے ضلعی امیر قاری شبیر احمد نے کہا کہ یکم محرم سے 10 محرم الحرام تک کے ایام کو ’’عشرہ فاروقؓ و حسینؓ‘‘ اور ’’عشرہ امن‘‘ کے طور پر منایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران صحابہ کرامؓ اور اہلِ بیت عظامؓ کی عظمت، فضائل اور ان کی سیرتِ مبارکہ کو اجاگر کیا جائے تاکہ معاشرے میں محبت، احترام اور اتحاد کی فضا کو فروغ مل سکے۔
انہوں نے کہا کہ یکم محرم الحرام کو امیرالمومنین حضرت عمر فاروقؓ کی شہادت جبکہ 10 محرم الحرام کو حضرت امام حسینؓ ابن علیؓ کی عظیم اور مظلومانہ شہادت کا دن ہے۔ یہ دونوں عظیم شخصیات حضور نبی اکرم ﷺ کی محبوب ہستیاں تھیں اور ان کے درمیان محبت، احترام اور عقیدت کا گہرا تعلق موجود تھا۔
قاری شبیر احمد نے کہا کہ حضرت عمر فاروقؓ اہلِ بیت اطہارؓ سے بے پناہ محبت اور عقیدت رکھتے تھے جبکہ حضرت امام حسینؓ بھی شیخین حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ سے گہری محبت اور احترام رکھتے تھے۔ صحابہ کرامؓ اور اہلِ بیت اطہارؓ امتِ مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ اور اتحاد و اخوت کی روشن مثال ہیں۔
انہوں نے حکومت پنجاب کی جانب سے محرم الحرام کے دوران امن و امان کے قیام اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مرکزی علماء کونسل جہلم ان کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ان کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔
علماء کرام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محرم الحرام بالخصوص عشرہ فاروقؓ و حسینؓ ملک بھر میں امن، محبت، احترام اور بھائی چارے کے ماحول میں گزارا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے امن و استحکام کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور ہر شہری کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ علماء کرام اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ہر ایسی تقریر، تحریر یا بیان سے اجتناب کریں جو فرقہ واریت، انتشار یا بدامنی کو جنم دے۔ اگر کہیں امن عامہ کو نقصان پہنچانے یا اشتعال انگیزی کی کوئی کوشش نظر آئے تو قانون کو ہاتھ میں لینے کے بجائے فوری طور پر متعلقہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آگاہ کیا جائے تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
مرکزی علماء کونسل جہلم نے تمام مکاتبِ فکر، مذہبی تنظیموں اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ محرم الحرام کے دوران صبر، برداشت، رواداری اور باہمی احترام کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔



