پڑی درویزہ/ سوہاوہ: حکومت پنجاب کی ’’سورس آؤٹ پالیسی‘‘ کے تحت ضلع جہلم میں ہیلتھ اینڈ فیملی پلاننگ کے فلاحی مراکز کی ازسرنو ترتیب کے بعد نواحی گاؤں دئیوال میں قائم فلاحی مرکز کے تمام ملازمین کو 65 سالہ قدیم کیپٹن عطا اللہ خان ڈسٹرکٹ کونسل سول ڈسپنسری پڑی درویزہ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی جہلم کی نئی ہدایات کی روشنی میں کرایہ کی عمارتوں میں قائم تمام فلاحی مراکز کو بند کر کے قریبی سرکاری اداروں میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں دئیوال فلاحی مرکز کے تمام اسٹاف کو سول ڈسپنسری پڑی درویزہ میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں وہ اگلے احکامات تک اپنی خدمات سرانجام دیں گے۔
مقامی عوامی اور سماجی حلقوں نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے علاقے کے عوام کے لیے سہولت قرار دیا ہے۔ مقامی سماجی و فلاحی کمیٹی پڑی درویزہ کے اراکین شاہد محمود مغل، پروفیسر افتخار محمود اور دیگر نے فلاحی مرکز کے ملازمین سے خصوصی ملاقات کی اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے صحت کی سہولیات مزید بہتر ہوں گی اور سول ڈسپنسری کی فعالیت میں اضافہ ہو گا، جس کا براہ راست فائدہ مقامی آبادی کو پہنچے گا۔
