جہلم میں شدید سردی کے دوران بجلی اور سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ، شہریوں کی زندگی اجیرن

12

جہلم میں سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی بجلی اور سوئی گیس کی اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی مشکلات میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔

سماجی اور شہری تنظیموں کے عمائدین نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شدید سرد موسم میں گیس کی عدم فراہمی کے باعث شہریوں، بالخصوص بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ گھریلو صارفین کو کئی کئی گھنٹے سوئی گیس میسر نہیں آتی، جس کے باعث کھانا پکانا، پانی گرم کرنا اور گھروں کو گرم رکھنا تقریباً ناممکن بنتا جا رہا ہے۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو جاتی ہے جب گیس کے ساتھ ساتھ بجلی کی غیر اعلانیہ بندش بھی ہو جائے، جس سے روزمرہ معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

عوامی حلقوں کے مطابق بچوں کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں جبکہ کاروباری طبقہ بھی شدید پریشانی میں مبتلا ہے۔ شہریوں نے شکایت کی کہ توانائی کی قلت کے مسئلے پر سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ اور بجلی کی ترسیل سے وابستہ اداروں کی جانب سے واضح شیڈول جاری نہیں کیا جا رہا، جس سے عوام کو ذہنی اذیت کا سامنا ہے۔

سماجی رہنماؤں نے کہا کہ حکومت کی ناقص منصوبہ بندی اور بدانتظامی کے باعث توانائی کا بحران ہر سال سردیوں میں سنگین صورت اختیار کر لیتا ہے، مگر عوام کو مؤثر ریلیف دینے کے بجائے مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

شہریوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں بشمول آئیسکو سے مطالبہ کیا ہے کہ لوڈشیڈنگ کا واضح شیڈول جاری کیا جائے، گیس اور بجلی کی فراہمی بہتر بنائی جائے اور سرد موسم میں عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے۔

Exit mobile version