ضلع جہلم میں مہنگائی کنٹرول کے حکومتی دعوے بے اثر، مصنوعی مہنگائی بے قابو

2

جہلم: پنجاب حکومت کے مہنگائی کنٹرول کرنے کے دعوے جہلم سمیت ضلع بھر میں محض زبانی کلامی جمع تفریق تک محدود نظر آتے ہیں۔ عملی طور پر مجسٹریسی نظام غیر فعال ہونے اور انتظامیہ کی کمزور گرفت کے باعث شہر اور گردونواح میں مصنوعی مہنگائی کا جن بے قابو ہو چکا ہے، جس نے غریب اور سفید پوش طبقے کے گھروں میں دستک دے دی ہے۔

چینی، چکن، گوشت، دودھ، دہی، سبزیاں اور پھل من مانے نرخوں پر فروخت کیے جا رہے ہیں، جبکہ دیگر روزمرہ اشیائے ضروریہ بھی سرکاری نرخ ناموں سے زائد قیمتوں پر دستیاب ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مقررہ نرخ موجود ہونے کے باوجود ان پر عملدرآمد دکھائی نہیں دیتا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے منافع خور عوام سے خود ساختہ قیمتیں وصول کر رہے ہیں۔

شہری حلقوں کے مطابق انتظامیہ کی عدم توجہی اور مجسٹریسی نظام کی عملی غیر فعالیت نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ دکانداروں نے بالخصوص سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کر رکھا ہے، اور افغانستان سے تجارتی تعلقات منقطع ہونے کو جواز بنا کر نرخ کئی گنا بڑھا دیے گئے ہیں۔ اسی طرح روزمرہ خوراکی اشیا میں بھی بلاجواز اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس سے شہری شدید اضطراب کا شکار ہیں۔

عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جہلم میں مجسٹریسی نظام کو فوری طور پر فعال کیا جائے، قیمتوں کی روزانہ کی بنیاد پر نگرانی ہو، اور سرکاری نرخ ناموں پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے سخت کارروائیاں کی جائیں، تاکہ مصنوعی مہنگائی پر قابو پا کر عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

Exit mobile version