16
جہلم میں محکمہ صحت پنجاب کی مبینہ عدم توجہی اور مؤثر چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کے باعث شہر سمیت ضلع بھر کے متعدد بیوٹی پارلرز میں سکن ٹریٹمنٹ، ہائیڈرا فیشل، فیشل فلرز، بوٹوکس اور چہرے پر مختلف اقسام کے انجیکشنز کھلے عام لگائے جا رہے ہیں، حالانکہ ان طبی نوعیت کے اقدامات کی اجازت صرف مستند ایم بی بی ایس ڈاکٹرز یا ماہر امراضِ جلد (ڈرماٹولوجسٹ) کو حاصل ہوتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق ضلع بھر کے اکثر بیوٹی پارلرز میں غیر تربیت یافتہ خواتین و حضرات یہ خطرناک عمل انجام دے رہے ہیں، جو قوانین اور طبی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر لگائے جانے والے انجیکشنز اور سکن ریجمنٹس کے باعث متعدد خواتین کو جلدی الرجی، انفیکشن، چہرے پر سوجن، داغ دھبے اور مستقل نوعیت کے نقصانات جیسے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
متاثرہ خواتین نے بتایا کہ بیوٹی پارلرز میں انہیں بغیر کسی میڈیکل ہسٹری، الرجی ٹیسٹ یا مستند ڈاکٹر کی موجودگی کے مہنگے اور خطرناک انجیکشن لگائے جاتے ہیں، جس سے ان کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
طبی ماہرین نے واضح کیا ہے کہ فیشل PRP، فلرز اور دیگر جدید طریقۂ علاج کے لیے میڈیکل معیار کے مطابق جراثیم سے پاک ماحول اور خصوصی سہولیات ناگزیر ہوتی ہیں، جو عام بیوٹی پارلرز میں دستیاب نہیں ہوتیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ غیر معیاری ادویات اور انجیکشنز بعض صورتوں میں جان لیوا بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔
شہری حلقوں نے محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ جہلم سمیت ضلع بھر میں قائم بیوٹی پارلرز کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے، غیر قانونی پریکٹس میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور خواتین و بچیوں کو جلدی امراض اور مستقل نقصانات سے محفوظ بنایا جائے۔
