جہلم شہر کی گلی، محلوں اور بازاروں میں بڑھتا شور شہریوں کے لیے عذاب بن گیا

جہلم شہر کے گلی محلوں اور بازاروں میں ریڑھی بانوں، ٹھیلے والوں اور بھکاریوں کی جانب سے لاوڈ اسپیکرز کے بے جا اور مسلسل استعمال نے شہریوں کا جینا محال کر دیا ہے۔

صبح سے شام تک جاری چیختے چلاتے اعلانات، گانوں اور بھیک مانگنے کی آوازوں نے نہ صرف شہریوں کی قوتِ سماعت کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے بلکہ ان کے ذہنی سکون، نیند اور روزمرہ زندگی پر بھی برا اثر ڈالا ہے۔

ریڑھیوں پر نصب لاوڈ اسپیکرز سے سبزی، پھل، کپڑے، جوتے اور دیگر اشیاء کی فروخت کے اعلانات، اور اب اسپیکر کے ذریعے بھیک مانگنے کا "نیا رواج” شہر کے ماحول کو انتہائی شور زدہ بنا رہا ہے۔

ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ اس طرح کی آوازیں انسانی دماغ پر گہرے منفی اثرات ڈالتی ہیں اور شہری نیند کی کمی، ذہنی دباؤ، چڑچڑے پن اور ڈپریشن جیسے نفسیاتی مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی بار ضلعی انتظامیہ کو تحریری اور زبانی طور پر شکایات درج کرائی ہیں لیکن تاحال کسی قسم کی کارروائی یا پابندی نظر نہیں آتی۔ انتظامیہ کی خاموشی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے حسی نے عوام کو مایوسی میں مبتلا کر دیا ہے۔

شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، ڈی سی جہلم اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سنجیدہ مسئلے کا فوری نوٹس لیں، لاوڈ اسپیکرز کے غیر ضروری استعمال پر پابندی عائد کریں اور شہر میں پرامن ماحول کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کریں تاکہ عوام کی ذہنی و جسمانی صحت محفوظ رہ سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button