اتباع رسول ﷺ اور اسوۂ حسنہ ہی نجات کا ذریعہ ہیں، امیر عبدالقدیر اعوان

سان فرانسسکو: امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ روز قیامت کی سختی ایسی ہوگی کہ لوگ ہوش میں ہوتے ہوئے بھی مدہوش دکھائی دیں گے، لیکن جن لوگوں نے اپنی زندگیوں میں اتباعِ رسالت ﷺ اختیار کی اور خود کو اسوۂ حسنہ کے مطابق ڈھالا ہوگا، انہیں رحمت الٰہی اپنی آغوش میں لے لے گی اور اس دن کا بھاری خوف انہیں غمگین نہیں کرے گا۔

امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ نے سان فرانسسکو کی اے ایم ایل مسجد میں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحابہ کرامؓ نے محبتِ رسول ﷺ کے دعوے کو اپنے عمل سے ثابت کرکے دکھایا۔ زمین و آسمان گواہ ہیں کہ ظاہری اسباب کی عدم موجودگی کے باوجود صحابہ کرامؓ نے اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے ایسے عظیم کام سرانجام دیے جو بظاہر ممکن دکھائی نہیں دیتے تھے۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا بھی اللہ تعالیٰ کی ہے اور آخرت بھی۔ دنیاوی علوم ضرور حاصل کرنے چاہئیں اور زندگی کے معاملات میں ظاہری اسباب کو بھی اختیار کرنا چاہیے، لیکن دنیا ہی کو سب کچھ سمجھ لینا درست نہیں، کیونکہ یہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے۔ انسان کو چاہیے کہ دنیا میں رہتے ہوئے مخلوقِ خدا کو فائدہ پہنچائے تاکہ دین کی نسبت سے اس کے لیے صدقۂ جاریہ کا ذریعہ بن سکے، جبکہ اس کی نظر ہمیشہ آخرت پر رہنی چاہیے۔

امیر عبدالقدیر اعوان نے مزید کہا کہ قربِ الٰہی کے حصول کے لیے ایمان کا اقرار اور اس کے مطابق اعمال بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ نماز کی حقیقی قبولیت انسان کو بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔ ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے کہ کیا نماز ادا کرنے کے بعد ہماری زندگی میں یہ کیفیت پیدا ہوتی ہے؟ اگر ایسا نہیں ہو رہا تو ہمیں اپنی کمزوریوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسان کو اپنی نیت، لباس کی پاکیزگی اور نماز کے ہر رکن پر غور کرنا چاہیے کہ کہیں اس کی ادائیگی میں کوئی کمی تو نہیں رہ گئی۔ ہمیں اپنی عبادات کا محاسبہ کرنا اور یہ دیکھنا چاہیے کہ ہماری طرف سے کہاں کوتاہی ہو رہی ہے۔

امیر عبدالقدیر اعوان نے قرآنِ کریم کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اس لیے ہمیں یہ جائزہ لینا چاہیے کہ کیا ہمیں اس کی تلاوت کرنے اور اس سے رہنمائی حاصل کرنے کی سعادت نصیب ہو رہی ہے؟ اسی طرح نبی کریم ﷺ کی بعثت تمام مخلوق کے لیے رحمت ہے، لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ہم سیرتِ طیبہ ﷺ سے کس قدر واقف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی مبارک زندگی کیسے بسر فرمائی، اپنے صحابہ کرامؓ کی تربیت کس انداز میں کی، اہلِ خانہ کے ساتھ کس طرح گفتگو فرمائی اور زندگی کے شب و روز کیسے گزارے۔ محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا ہے کہ انسان آپ ﷺ کی سیرت سے واقفیت حاصل کرے اور اپنی زندگی کو آپ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔

انہوں نے والدین کی ذمہ داریوں کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ والدین اپنی اولاد کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بے شمار قربانیاں دیتے ہیں، لیکن انہیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کیا وہ اپنی اولاد کو سیرتِ نبوی ﷺ سے آگاہ کر رہے ہیں؟ کیا انہیں گناہ اور ثواب، نیکی اور بدی کے فرق سے روشناس کرایا جا رہا ہے؟ اولاد کی تربیت صرف اس کی دنیاوی ضروریات پوری کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کی دینی و اخلاقی تربیت بھی والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

امیر عبدالقدیر اعوان نے زور دیا کہ ہر شخص کو دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنا محاسبہ کرنا چاہیے اور اپنی نیت، اعمال، عبادات اور طرزِ زندگی کا جائزہ لینا چاہیے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ کریم ہم سب کے حال پر رحم فرمائیں، ہمیں اپنی اصلاح کرنے، قرآن و سنت پر عمل کرنے اور سیرتِ رسول ﷺ کو اپنی زندگیوں میں اپنانے کی توفیق عطا فرمائیں۔

خطاب کے اختتام پر انہوں نے ملکی سلامتی، استحکام اور بقا کے لیے اجتماعی دعا کرائی۔

↑
Exit mobile version