جہلم کے علاقے گلشن ٹاؤن میں میلاد و معراج مصطفی ﷺ کی روح پرور محفل کا انعقاد

جہلم کے علاقے گلشن ٹاؤن میں گزشتہ روز معروف عالمِ دین سید ریاض حسین شاہ کی رہائش گاہ پر ایک پروقار محفلِ میلاد و معراج مصطفی ﷺ کا انعقاد کیا گیا۔
محفل کی صدارت سید اعجاز حسین شاہ نے کی، جبکہ نقابت کے فرائض بلال خان قادری نے انجام دیے۔ محفل پاک کا آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید سے کیا گیا، جس کی سعادت حافظ محمد افراسیاب نے حاصل کی۔ اس کے بعد نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کرنے کی سعادت محمد ارسلان اور حافظ شاہد کریم نے حاصل کی۔
اس روح پرور محفل کے مہمانِ خصوصی معروف سماجی شخصیت حاجی عمران اسلم مغل تھے۔ محفل میلاد مصطفی ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے خطیبِ اعظم منڈی بہاؤالدین، یاسر حمید سیالوی نے واقعہ معراج النبی ﷺ کے روحانی و علمی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے فرمایا کہ معراج النبی ﷺ وہ عظیم واقعہ ہے جس میں نبی کریم ﷺ کو رات کے ایک مختصر حصے میں روح اور جسم کے ساتھ مسجدِ اقصیٰ (بیت المقدس)، ساتوں آسمانوں، جنت اور دوزخ کے مشاہدے کا شرف بخشا گیا۔ آپ ﷺ وہاں تک پہنچے جہاں اس سے قبل کوئی بشر نہیں پہنچا تھا۔
انہوں نے مزید فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے مکہ سے مدینہ، مدینہ سے طورِ سینا، طورِ سینا سے بیت اللحم اور پھر بیت اللحم سے بیت المقدس تک براق پر سفر کیا، جہاں آپ ﷺ نے تمام انبیائے کرام کی امامت فرمائی۔ اس کے بعد حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپ ﷺ کو ایک سیڑھی پیش کی، جس پر آپ ﷺ نے آسمانوں کی جانب سفر جاری رکھا۔ عربی زبان میں سیڑھی کو "معراج” کہا جاتا ہے، اسی نسبت سے اس واقعے کو معراج النبی ﷺ کہا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام سدرۃ المنتہیٰ تک آپ ﷺ کے ہمراہ رہے، اور جنت و دوزخ کے مناظر بھی دکھائے گئے۔ واپسی بھی اسی ترتیب کے ساتھ ہوئی اور آپ ﷺ براق کے ذریعے مکہ مکرمہ واپس پہنچے۔ خطیبِ محفل نے کہا کہ معراج کا اصل درس یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کائنات کا بلا شرکتِ غیرے حکمران ہے، وہی مختارِ کل ہے اور اسے کسی مددگار کی ضرورت نہیں۔ یہ واقعہ نبی کریم ﷺ کے بلند مقام و مرتبے کی عظیم نشانی ہے۔
محفل کے اختتام پر سید ناصر محمود نے نبی کریم ﷺ اور آپ کی آلِ پاک پر سلام پیش کیا۔ اس بابرکت موقع پر شہر کی سماجی، رفاہی، اور صحافتی تنظیموں کے عمائدین سمیت مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔



