تہرے قتل کے مقدمے میں بڑا عدالتی فیصلہ، تین مجرمان کو سزائے موت اور بھاری جرمانے کی سزا

سوہاوہ: تہرے قتل کے مقدمے میں بڑا عدالتی فیصلہ آ گیا، عدالت نے تین مجرمان کو سزائے موت اور بھاری جرمانے کی سزا سنا دی۔

تفصیلات کے مطابق جہلم کی تحصیل سوہاوہ کی عدالت نے تھانہ ڈومیلی کے علاقے میں سال 2024ء کے دوران پیش آنے والی تہرے قتل کی واردات کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے تین مجرمان کو سزائے موت اور 10، 10 لاکھ روپے فی کس جرمانے کی سزا سنا دی۔

ترجمان جہلم پولیس کے مطابق تھانہ ڈومیلی میں درج قتل کے مقدمہ نمبر 124/24، بجرم دفعات 302، 148، 149 اور 109 تعزیراتِ پاکستان، کا فیصلہ معزز عدالت نے سنا دیا۔ مقدمے میں ارباب حسین، محمد جاوید اور فرحان ظفر کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت اور ہر ایک کو 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔

ترجمان جہلم پولیس کے مطابق مجرمان نے سال 2024ء میں تہرے قتل کی واردات کا ارتکاب کیا تھا۔ جہلم پولیس نے جدید تفتیشی طریقۂ کار اور تکنیکی ذرائع کی مدد سے ملزمان کو ٹریس کرکے گرفتار کیا اور مقدمے کی تفتیش مکمل کرنے کے بعد ٹھوس شواہد کی بنیاد پر چالان عدالت میں پیش کیا۔

پولیس کے مطابق مقدمے کی موثر پیروی اور پیشہ ورانہ تفتیش کے نتیجے میں عدالت نے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد تینوں ملزمان کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت اور جرمانے کی سزا سنائی۔

ڈی پی او جہلم شفیق احمد چوہدری نے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری ہیں اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ جہلم پولیس کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ قتل جیسے سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لانے اور انہیں قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

↑
Exit mobile version