
جہلم: گائے اور بکرے کے گوشت کے بعد مرغی کا گوشت فروخت کرنے والے دکانداروں نے بھی وزن بڑھانے کے لیے گوشت میں پانی لگانے کا نیا حربہ اپنا لیا ہے جبکہ پنجاب فوڈ اتھارٹی، ضلعی انتظامیہ اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر لائیو اسٹاک کی خاموشی نے شہریوں کو پریشان کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جہلم شہر اور گردونواح میں کئی مرغی فروش دکاندار ذبح شدہ مرغی کو کھال اتارنے کے بعد پانی سے بھری بالٹی میں ڈال کر 20 منٹ بعد گاہک کو فروخت کر رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے مرغی کا وزن مصنوعی طور پر بڑھایا جا رہا ہے، جس سے صارفین کو مالی نقصان کا سامنا ہے۔
شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ مرغی فروش پہلے ہی فی کلو قیمت وصول کرنے کے باوجود صفائی کے نام پر کم از کم 200 گرام گوشت کم دے رہے ہیں، جس سے عوام کو 800 گرام گوشت کلو کے دام میں مل رہا ہے۔
شہریوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ مرغی کے گوشت میں پانی لگانے اور کم وزن فروخت کرنے والے دکانداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ دکاندار عوام کو لوٹنے میں مصروف ہیں اور ان پر فوری کریک ڈاؤن ضروری ہے تاکہ صارفین کو معیاری اور مکمل وزن کا گوشت فراہم کیا جا سکے۔