بغیر کسی بحث کے کہ ہزاروں سال پہلے ہماری دینی تاریخ کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام جب سن بلوغت میں پہنچے، عقلی اوج ثریا کو چھوتے ہوئے حاکمِ وقت نمرود کے خلاف نبرد آزما ہوئے ۔ آج کی طرح کے انسانوں کے تراشے خداؤں کے خلاف آواز بلند کرنے لگے تونمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عقلی/عقدی تحریک کو روکنے یا ختم کرنے کے لئے ایک فیصلہ لیا کہ اس انقلابی رہنما کو آگ میں جلا کر صفحہ ہستی سے ناعوذباللہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مٹا دیا جائے۔ اب اس آگ کے کے لئے لکڑی کا جو بڑا ذخیرہ یا چخہ تیار کیا گیا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عقلی، روشن خیالی کی تحریک کا اس قدر پراثر تھی کہ ہر کوئی اس جہد مسلسل میں تھا کہ اس نمرودی چخہ کو کس طرح ٹھنڈا کیا جائے ۔ اس جہد مسلسل میں انسانوں کے علاوہ جانور اور پرندے تک شامل تھے کہا جاتا ہے کہ ایک پرندہ بھی اپنی چونچ میں پانی کی ایک ایک بوند لا کر اس چخہ نمرودی پر اس عظیم سوچ کو اپنے ذہن میں رکھے گرا رہا تھا کہ مستقبل بعید میں لاکھوں سال بعد بھی جب کوئی قصہ ابراہیم علیہ السلام و نمرود کا ذکر کرے گا تو اس دوران یہ ذکر لازمی ہوگا کہ اس چخہ نمرودی کے ٹھنڈا کرنے میں جہاں انسانیت حتیٰ کہ ان دیکھی مخلوق بر سر پیکار تھی وہاں ایک پرندہ بھی اپنی چونچ میں پانی کی بوندیں لا کر گراتا رہا یعنی اس جہد مسلسل میں اس پرندے کی وہ بوندیں بھی شامل ہیں اس طرح اس پرندے کی یہ جد و جہد تاریخ میں ہمیشہ کے لئے امر ہو جائے گی۔
بس کچھ اسی فکری گردش کے نتیجے میں عرصہ دراز کے بعد یہ کالم نگار قلم اٹھانے پر مجبور ہوا کہ واقعی یہ بات درست ہے کہ بقول شیخ سعدی ؒریاست یا نظام حکومت یا طبقہ اشرافیہ کے برعکس عقلی یا فکری طور پر معاشی تبدیلی کی بات وہ کرے جس کو اپنے سر اور زر کی فکر نہ ہو، اب اگر زر کی بات کی جائے تو مادی زر تو اپنے پاس ہے نہیں لیکن یہ جو فکری زر کا زیور ہے اس کی قیمت کااندازہ لگانا تو عبث ہے۔ بس یہی وہ زر ہے جس کی فکر اس قلمی پرندے کو لاحق ہو سکتی ہے لیکن یہ اس پرندے کی چونچ کی بوند ہے کہ یہ بات نہ ہو کہ اپنی روشن فکری کو اپنے سا تھ ہی اس دنیا سے سفر مکمل کر کے کوئی چلا گیا۔ نیز یہ بات بھی کہ پاکستان میں اس وقت تک گزشتہ 78سالوں میں کتنے لوگ قلمی کاوشوں کے ذریعے عقل کی بوندیں ڈالنے میں مصروف ہیں۔
یہ سب کالم نگار کے رائے میں اسی پرندے کی مانند ہیں جس نے چخہ نمرودی کو بجھانے یا ٹھنڈا کرنے کے لئے اپنی بساط کے مطابق حصہ ڈالتے ہوئے وہ چند بوندیں گرائی تھیں اور فطرت سماوی نے آسمانوں کو چھونے والے شعلوں کو اس طرح ٹھنڈا کر دیا کہ جس کو امر ہو نا تھا وہ تو محفوظ رہا لیکن نمرود نشان عبرت کے طور’’ بت ‘‘کی حیثیت میں آج بھی باقی ہے ۔
چند سال قبل ایک مرتبہ معماران قوم یعنی معزز اساتذہ کرام لاہور میں اپنے مطالبات کے حق میں موسم گرما کے باوجود ایک دھرنا دے رہے تھے تو اس کالم نگار نے بغیر کسی منصوبہ بندی کے ایک مضمون ان بے باک اساتذہ کی نذر کیا تھا جس کا عنوان تھا ’’ زندہ باد اساتذہ پائندہ باد اساتذہ‘ ‘معاصر ہذا جہلم اپڈیٹس نے خوبصورت انداز میں تقاضا وقت کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے بین الاقوامی انٹر نیٹ اخبار میں شائع کر کے بڑی مثال قائم کی۔
بالکل آج بھی وہی صورت حال ہے، پورے صوبہ پنجاب میں شعبہ تعلیم و تدریس کی بہت دگرگوں حالت ہے ہر طرف شور ہے، غوغا ہے کہ شعبہ تعلیم کو پرائیویٹائز ( نجی شعبہ کے حوالے ) کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر اپنے ضلع جہلم کے اساتذہ کرام کے بڑے جلوس دکھائے جا رہے ہیں۔ اسی طرح صوبہ بھر کے 36اضلاع میں اساتذہ کی تحریک اس عوام دشمن نجکاری مہم کے خلاف زوروں پر ہے۔
گزشتہ دنوں اس کالم نگار نے اپنے ایک معزز استاد گرامی کی’’ فیس بک‘‘ صفحہ پر ایک پیغام شامل کیا تھا کہ قائدین گرینڈ ٹیچر الائنس کو پنجاب ٹیچر یونین کی تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ اپنے بہت ہی معزز اساتذہ کرام بلکہ معماران قوم کے لئے تھوڑا تاریخی پس منظر کی طرف لے کر جانا چاہتا ہوں جو شاید بہت تھوڑی تعداد کے علم میں ہے کہ 1970ء سے قبل ہمارے تعلیمی ادارے ڈسٹرکٹ بورڈ اور میونسپل کمیٹیوں کے زیر نگرانی ہوتے تھے۔ سکولوں کے نام ایم سی یا پھر ڈی بی پرائمری /مڈل /ہائی سکول ہوتا تھا۔ یعنی میونسپل کمیٹی اور ڈسٹرکٹ بورڈ کے نام پر سکول ہوتے تھے، بنیادی پے سکیل کاتصور سرے سے تھا ہی نہیں یا پھر کم تھا۔
اب قلم کار تھوڑا سیاسی تاریخ کی نشاندہی کرے گا کیونکہ حق دارکو اس کا حق نہ دیا جائے تو یہ ایک تاریخی ناانصافی کے مترادف اقدام سمجھا جائے گا۔ اس لئے تمام سرکاری اساتذہ کرام کو علم ہونا چاہیے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ تمام تعلیمی ادارے جہاں کہیں تھے سب قومی ملکیت میں لے کر یکساں حیثیت دے دی گئی۔ بنیادی پے سکیل کانظام متعارف کرایا گیا اور پنشن کی عمر 55سال سے 58سال تک مقرر کی گئی ۔
استاد محترم کو وہ مقام دیا گیا جس کا وہ اصل میں مستحق تھا لیکن وہ اساتذہ گرام بھی اندر سے مخلص تھے اور اس وقت کی قلیل ماہانہ تنخواہوں کے اندر رہتے ہوئے اپنے طلباء کو خون دل تک دے کر زیور تعلیم سے آراستہ کرتے تھے ٹیوشن جیسی لعنت کا وجود نہ تھا بلکہ ٹیوشن یا پرائیویٹ پن کو استا د اپنی توہین تصور کرتا تھا۔ پی پی پی حکومت کی طرف سے تمام پیداواری اور خدماتی اداروں میں ملازمیں حتی ٰ کہ اساتذہ اور طلباء تک کواپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے انجمن سازی کا حق دیا گیا ۔
سرمایہ دارانہ فکر میں دھنسی افسر شاہی کی موجودی میں مندرجہ بالا اقدامات کسی انقلاب سے کم نہ تھے، طریقہ نفاذ میں شاید درستی نہ تھی کیونکہ ارباب بست کو کشاد کو نئے نظام کے نفاذ کے لئے کوئی منصوبہ بند قسم کی تربیت تک نہ دی گئی تھی فکری اختلاف کا ہر کسی کو حق ہے لیکن معزز اساتذہ کو علم ہونا چاہیے کہ صدیوں پرانے نظام کے اندر بڑی تبدیلی کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا ۔ پہلی دفعہ سیاسی اور جمہوری حکومت کا قیام عمل میں آیا تھا۔
یہاں صرف اپنے اساتذہ کرام کے علم میں اضافہ کرنے کا مقصد تھا اس کالم کے ذریعے کسی سیاسی پارٹی یا شخصیت کی بلاوجہ حمایت یا مخالفت ہر گز نہیں۔ موجودہ حکومتی ایوانوں میں جو سیاسی جماعت اس وقت برا جمان ہے ، اس جماعت کی بنیاد کااگر بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ اس کی اولین ترجیحات میں تجارت اور منافع یا دولت کے انبار لگا نا ہے ۔ ذاتی یا نجی ملکیت کو اپنا مقصد حیات تصور کیا جاتا ہے جس کی کوئی حد نہ ہو۔ جہاں تک اسی اتحاری بڑی سیاسی جماعت کا تعلق ہے تو یہ سیاسی اتحاد شاید تقاضا وقت کی مجبوری ہے۔
جہاں تک موجودہ اساتذہ کی تعلیمی اداروں کی نجکاری کے خلاف جاری تحریک کا تعلق ہے تو گرینڈ ٹیچر الائنس کے قائدین کو بہتر علم ہے کہ ہماراتعلیمی، تدریسی نظام پبلک سیکٹر کس وقت سے زوال پذیر ہے۔ تو جناب جس طرح اس پبلک سیکٹر کی ابتداء کے متعلق چند نکات کا انکشاف کیا گیا ہے اسی طرح یہ وضاحت کی جاتی ہے کہ 1977ء کے نصف سے جب وطن عزیز پرمارشل لاء کا گھٹا ٹوپ اندھیرا چھانے لگا تو اس اندھیری رات کے دوران دیگر نقصانات تو اپنی جگہ ہوئے لیکن ہماری ترقی کی سیڑھی کی بنیاد جس کو تعلیم اور تدریس کہا جاتا ہے کو جڑوں سے دیمک لگانے کا کام شروع کیا گیا، مراد بڑ ے صنعتی اداروں کے ساتھ ساتھ تعلیمی و صحت کے اداروں کی نجکاری شامل ہے ۔
عوام تو سادہ لوح لیکن استاد ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کو بھی علم نہ ہو سکا کہ یہ دیمک آخر کا ر ان سب کو اپنی لپیٹ میں لے کر تباہ و برباد کرے گی جو کچھ آج ہو رہا ہے۔ حالآنکہ سیدھا اصول موجود تھا اور ہے کہ جس آبادی میں سرکاری تعلیمی ادارہ موجو دہے وہاں سے ایک خاص فاصلے کے احاطے کے اندر کوئی نجی تعلیمی ادارہ قائم کرنے کی اجازت تک نہ دی جاتی لیکن ہوا سب کچھ اس کے برعکس ۔ وہ استاد جو ’’دوامی اور لزومی‘‘ طریقہ تدریس کے تحت تدریسی خدمات سر انجام دیتے تھے انہیں جدیدی یعنی مختصریات کے متعلق سبز باغ دکھائے گئے جس کی روشنی میں تدریس کا ستیا ناس کیا گیا یہ اقدامات ہوتے رہے۔
لیکن ہمارے معززاساتذہ کرام خاموش تماشائی کی علامت بن کر مشاہدہ کرتے رہے بلکہ آزادی اور آسانی کے نشے میں دھت رہے ، مالی استفادہ کرتے رہے جس کا نتیجہ آج نکل رہا ہے۔ ایک مخصوص سازش کے تحت نجکاری کا اقدام جاری رہا، ہماری عوام کو بذریعہ میڈیا یا دیگر مختلف پروپیگنڈہ مہمات کے ذریعے فکری طور پر پبلک سیکٹر کا مخالف کیا گیا ۔
یہاں سب سے بڑا قابل غور نقطہ جو 2000ء کے بعد آئی ٹی انقلاب کا طوفان آیا اس کے نتیجے میں بھی بہت کچھ ہوا ۔ 1990ء کی دہائی کے نصف سے جب پرائمری سکولوں میں جماعت اول سے انگلش کا مضمون لازمی قرار دیا گیا یہ بھی نجی شعبہ کو فروغ دینے میں ایک عملی کاروائی کا حصہ تھا۔ پھر ہر گلی اور محلے میں نجی تعلیمی اداروں کا جال اس طرح بچھایا گیا کہ عوام خصوصاً خواتین میں ایک عجیب قسم کے مقابلے کی دوڑ شروع ہو گئی۔
پروپیگنڈہ کیا گیا کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں تدریسی سرگرمیاں معیاری نہیں ہیں۔ چندا ں حرکات سے یہ بات ثابت بھی ہورہی ہے سرکاری اوقات کار کے دوران موبائل کی لعنت کا استعمال روکنے کے لئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہ کیے گئے۔ نیز اکیسویں صدی کے آغاز سے پبلک سیکٹر کے معزز اساتذہ کرام سے طلبا ء کی سرزنش اور غیر حاضری کی صورت میں طلباء و طالبات کے نام تعلیمی اداروں سے خارج کرنے، نیز سال کے اختتام پر فیل اور پاس کرنے کے اختیار ات واپس لے لئے گئے۔
پھر سرکاری اداروں کے اساتذہ کرام کو کھلی چھٹی دی گئی کہ ان کے اپنے بچے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا رخ کرنے لگے۔ ایک منصوبہ بند سازش کے تحت گزشتہ 47سالوں پر محیط عرصہ میں پبلک سیکٹر تعلیمی شعبہ کو کمزور کیا گیا اور پرائیوٹ سیکٹر کو فروغ دیا گیا، اس دوران چند غیر ملکی ادارے بھی ہماری تدریس و تعلیم کی تباہی میں شامل ہو گئے جس کو نام نہاد افسر شاہی نے خوبصورت طریقے سے سہارا دیا یعنی گزرے 47سالوں کے دوران بین الاقوامی اداروں کی جانب سے مسلط کردہ رائٹ سائزنگ، ڈاؤن سائزنگ یا پھر ریشنلائزیشن جیسی پالیسیوں کے نتیجے میں بھی بہت کچھ ہوا ۔
ہمارے معزز اساتذہ کو بالکل بے حس کیا گیا، جہاں تحصیل کی سطح پر صرف ایک نگران بااختیار افسر ہوتا تھا وہاں اب کئی فسران ہیں جس کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ حال میں بھی ہر ہفتہ کے روز بلا وجہ پبلک سیکٹر تعلیمی اداروں میں چٹھی کا سلسلہ بھی اسی سازشی پالیسی کا شاخسانہ ہے ۔
تفاق سے راقم الحروف نے میٹرک تک کی تعلیم 1970کی دہائی کے اختتام سے پہلے سے مکمل کر لی تھی اس لئے آج کے مقابلے میں وہ گزرا دور اعلیٰ اور سنہری دکھائی دیتا ہے، مشاہدہ اور تجزیہ اپنا اپنا ہوتا۔ اب جو عظیم اساتذہ تعلیمی اداروں کی نجکاری کے خلاف تحریک چلا رہے ہیں ان کے لئے چند ضروری مشورے یا تجاویز دینے کے لئے اس سفیر قلم نے کمپیوٹر کے ’’کی بورڈ‘‘ پر انگلیاں چلانے کا فیصلہ لیا ہے ۔
یہاں ایک تاریخی واقعہ پیش ہے جو قائدین تحریک اساتذہ یا شرکاء کے لیے ایک بڑا سبق ثابت ہو سکتا ہے۔ پانی پت کی لڑائی جاری تھی مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر قیادت کر رہے تھے، مقابلہ مرہٹوں سے تھا بابری فوج کا پلڑا چندا ں کمزور دکھائی دینے لگا تو جری جوان بابر نے اپنے فوجی سالاران کا ایک اجلاس بلایا، سوال اٹھایا کہ ہماری فوج شکست کی طرف کیوں جا رہی ہے تو ایک سالار نے جہادی انداز میں انکشاف کیا کہ عالیجناب یہ جو عقبی قحبہ خانوں میں شراب کے مٹکے پوشیدہ ہیں۔ ہماری کمزوری کی اصل وجہ یہ ہے۔ مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر نے بیک جنبش حکمیہ اعلان کیا کہ یہ شراب کے مٹکے فوری طور پر توڑ دیے جائیں ، آئندہ کے لئے توبہ ۃ النسوح کی جائے ۔ اس حکم پر عمل ہونا تھا کہ مسلم فوج کو کامیابی سے ہمکنار ہوگئی۔
بس ان میں سب سے پہلے لازمی یہ ہے کہ گرینڈ ٹیچر الائنس کو ٹریڈ یونین کا مطالعہ کریں کی سرگرمیوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ دوسرا اور سب سے مشکل اقدام جو قائدین اور شرکاء تحریک کے لئے ایک کڑے امتحان سے ہر گز کم نہیں ہوگا وہ یہ کہ سب قائدین کو سوچ سمجھ کر تعلیمی اداروں کی ہڑتال کے ساتھ ساتھ اپنے دل پر پتھر باندھ کر اعلان کر دینا چاہیے کہ پبلک سیکٹر کے تمام اساتذہ پرائیویٹ اداروں میں زیر تعلیم اپنے تمام بچوں کو فوری طور پر پبلک سیکٹر کے تعلیمی اداروں میں واپس لا کر اپنے زیر نگرانی تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کا انقلابی اقدام کرنا چاہیے۔
اگر یہ محترم قائدین واقعی اپنے اورقوم کے بچوں سے مخلص ہیں تو قربانی گھر سے شروع کریں ، اجتماعی طور پر عہد کیا جائے کہ مستقبل میں کوئی سرکاری معلم یا معلمہ اپنے بچوں کو کسی پرائیویٹ تعلیمی دکان پر نہیں بھیجے گا یا گی اسی طرح ارباب بست و کشاد کو بھی ہوش کے ناخن لیتے ہوئے اپنا اخلاص سچ ثابت کرتے ہوئے سخت احکامات جاری کرنے چاہیئے کہ اساتذہ کے علاوہ دیگر سرکاری ملازمین کے بچے بھی فوری طور سرکاری تعلیمی اداروں میں واپس لائے جائیں، اس کے علاوہ جہاں استاد کے معزز مقام کا سوال ہے تو یہ مرتبہ ٹیوشن جیسی لعنت سے پاک معاشرے میں واپس آئے گا ورنہ بہت محال ہے۔
اس ٹیوشن زدہ معاشرے کے متعلق کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے :
وہ دن بیت گئے جب خدمت استاد کے عوض
جی چاہتا تھا کہ ہدیہ دل پیش کیجیے
بدلہ زمانہ ایسا کہ لڑکا پس از سبق کہتا ہے
ماسٹر جی بل پیش کیجیے ۔
ان قائدین کے لئے جوواقعی اپنے مقصد میں دلی طور پر مخلص ہیں۔ موجودہ عوام دشمن سرکاری شعبہ تعلیم کی نجکاری کے خلاف جاری تحریک کے قا ئدین و شرکاء کو دوسرے اقدام کے طور تمام اساتذہ فوری طور پر اعلان کریں کہ وہ سرکاری اوقات کار کے دوران موبائل کا استعمال واقعی نہیں کریں گے ۔
علاوہ ازیں شعبہ تعلیم کے حکام بالا سے قائدین تحریک کو بات کرنی چاہیے کہ شعبہ تدریس و تعلیم کو غیر ملکی اداروں سے محفوظ رکھا جائے نیز طریقہ تدریس کو 1980ء کی سطح پر لے جانے کی از ضرورت ہے اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے قیام کے لئے واضح طریقہ کار اپنانا چاہیے کہ جس شہری یا دیہی آبادی میں سرکاری پرائمری مڈل یا ہائی سکول موجود ہو وہاں گردونواح میں کم از کم دس کلو میٹر کے علاقہ میں کوئی پرائیویٹ تعلیمی ادارہ قائم کرنے کی اجازت ہر گز نہ ہونی چاہیے تا کہ نجی شعبہ جو اس حالت میں پہنچا ہے اور سرکاری شعبہ کو سازش کے نتیجہ میں پیچھے دھکیلنے کا کام زوروں پر جاری ہے۔
تحریک کے قائدین کے لئے بڑا سوال ہے کہ پہلے مرحلے میں صوبہ بھر میں 13ہزار تعلیمی ادارے پرائیویٹ کیے جا چکے ہیں اس وقت تو کوئی تحریک نہیں چلائی گئی اب جب مزید 14ہزار تعلیمی اداروں کی فہرست تیار کی گئی ہے تو معزز و محترم اساتذہ کرام کو تھوڑی فکر لاحق ہوئی ہے یہ ایک لمحہ فکریہ نہیں ہے؟ تاہم کہتے ہیں صبح کا بھولا ہوا شام کو واپس آجائے تو اسے بھولا ہوا نہیں کہتے اس وقت جو تجاویز سطور بالا میں پیش کی گئی ہیں یہ قائدین اساتذہ اور دیگر تمام شرکاء تحریک کا بڑا امتحان ہے کیونکہ عنوان میں یہی بات کی گئی ہے کہ یہ مضمون یا کالم صرف ایک بوند کے طور سپرد قلم کیا جا رہا ہے۔
یہاں مزید اپنے سینے کے داغ سے کچھ مزید پھپھولے جلا نے کی جسارت کی جا رہی ہے کہ جس طرح بیان کیا گیا کہ 1970ء سے قبل ہمارے مدارس ڈسٹرکٹ کونسل ، ڈسٹرکٹ بورڈ اور میونسپل کمیٹی کے ناموں پر ہوتے تھے اب جو طوفان جاری ہے اگر اسے بروقت روکا نہ گیا تو ہمارے سکول کیا کالج اور جامعات تک PECاور PEFجیسی این جی اوز( غیر سرکاری تنظیموں ) کے نام سے لکھے اور پکارے جائیں گے۔
ایک اور بات کہ اطلاعات کے مطابق جامعات میں شش ماہی ( سمسٹر) نظام چلایا جا رہا ہے لیکن ہمارے دیہی قصبات میں قائم بعض نجی اداروے اب بھی گریجویشن کے لئے پرانے سالانہ طریقہ کار کے مطابق طلباء و طالبات سے بھاری فیسیں حاصل کرکے داخلہ کر رہے ہیں۔ خدشہ ہے کہ بعد میں یہ ادارے طلباء و طالبات کو سمسٹر سسٹم کے لئے مجبور کریں گے۔
کالم نگار کے ذہن میں ایک سوالیہ نشان جو ختم ہونے والا نہیں ہوسکتا ہے کہ اس شعبہ تعلیم کی پرائیویٹائزیشن کے نتیجے میں معاشرے کی جن مقدس ارواح نے اداروں کے لئے اپنی ذاتی ملکیتی بیش بہا قیمتی اراضی عطیہ کی تھی وہ کیا اثر لیں گی کہ ہمارے پسماندگان نے یہی کچھ کرنا تھا یہ عطیہ جات کیوں لئے تھے ان میں چند کا ذکر کرنا لازمی تصور کرتا ہوں جو کہ علم میں ہیں۔
گجرات کے سر فضل علی، سرگڈھن سوہاوہ جہلم کے کرنل (ر) غلام سرور، پڑی درویزہ سوہاوہ جہلم کے سابق ایس ایس پی (ر) راجہ عنائت اللہ خان ( ستارہ قائداعظم)، اسی طرح بلبل کلاں سوہاوہ جہلم کے بزرگ فوج علی اور پھر اس پاکستان کی نسل اور دھرتی سے محبت کرنے والے ہزاروں لاکھوں مخیر اوراح جو اس حوص زدہ دنیا سے سفر کر گئے کی روحیں تڑپیں اور جلیں گی نہیں۔ یہ بڑا سوال ہے۔
یہاں تحصیل /ضلع مری، تحصیل کہوٹہ یا تحصیل گوجرکان کے دیہی علاقہ جات کی ان بہادر خواتین کو سلام کرتا ہوں کہ جنہوں نے اپنی آپ کے تحت غیر سرکاری اداروں کے عہدیداران کو استقبال ڈنڈوں سے کیا اور ایک مرتبہ خوب روکنے کی مثال دی کاش یہ سلسلہ جاری رہے شاید کسی کو ہوش آجائے۔یہ سوال صوبہ پنجاب اور پاکستان کے ارباب بست و کشاد اور دیگر اشرافیہ حکمرانوں سے کہ وہ ہمارے شعبہ تعلیم کو کس طرف دھکیل رہے ہیں؟ الفاظ و فکریات کی یہ بوند اس لئے گرا ئی جا رہی ہے تحریک اساتذہ کی کامیابی یا ناکامی میں اپنا کوئی حصہ نہیں ہے ۔
اس امید واثق کے ساتھ یہ کالم پورے صوبہ پنجاب میں پبلک سیکٹر تعلیمی اداروں کی حکومتی نجکاری مہم کو روکنے کے لئے بر سر پیکار ہیں ، نہ صرف ایک کالم ثابت ہو گا بلکہ کسی انقلاب صبح کا پیش خیمہ بھی ہو سکتا ہے ۔یعنی یہ بوند جو سپی کے منہ کے اندر چلی گئی تو موتی برآمد کر سکتی ہے لیکن اگر باہر رہی تو کسی کے لئے زہر تریاق کا موجب بھی بن سکتی ہے۔
تحریر: پروفیسر افتخار محمود
پڑوی درویزہ، تحصیل سوہاوہ، ضلع جہلم
فون نمبر 03065430285 – 03015430285
(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)
