جلالپور کینال منصوبے میں مبینہ ناقص منصوبہ بندی، بارشی پانی آبادی میں جمع ہونے لگا، متعدد مکانات کو خطرات لاحق

پنڈدادنخان: جلالپور کینال منصوبے میں مبینہ ناقص منصوبہ بندی اور نکاسی آب کے مؤثر انتظامات نہ ہونے کے باعث ضلع جہلم کے مثالی دیہات پپلی، خرید پور اور رتوال کے غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے مکین شدید پریشانی اور خوف میں مبتلا ہیں۔

علاقہ مکینوں کے مطابق جلالپور کینال پر تعمیر کیے گئے پل کے ایک جانب ریمپ مناسب انداز میں تعمیر کیا گیا ہے، تاہم دوسری جانب جنوبی سمت ریمپ غیر معمولی طور پر بلند بنا دیا گیا ہے، جس کے باعث بارش اور برساتی پانی کی نکاسی کا کوئی موثر بندوبست موجود نہیں۔ نتیجتاً بارش کا پانی رہائشی آبادی کی جانب جمع ہو جاتا ہے اور پل کے قریب واقع مکانات کی بنیادیں متاثر ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

اہلِ علاقہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بروقت اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو بارشوں کے دوران متعدد مکانات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر بار بارش کے بادل منڈلاتے ہی خوف و ہراس کی فضا قائم ہو جاتی ہے اور وہ اپنے گھروں، سامان اور عمر بھر کی جمع پونجی کے تحفظ کے لیے شدید پریشانی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو کسی بھی وقت مکانات منہدم ہونے، قیمتی املاک کو نقصان پہنچنے اور متعدد خاندانوں کے بے گھر ہونے کا خدشہ ہے۔

اہلِ علاقہ نے الزام عائد کیا ہے کہ منصوبے کی تعمیر کے دوران نکاسیٔ آب کے مؤثر نظام کو نظر انداز کیا گیا، جس کے باعث بارش کا پانی قدرتی بہاؤ کے بجائے آبادی کی طرف رخ کر لیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کے مستقل حل کے بغیر ہر بارش ان کے لیے ایک نئی آزمائش بن چکی ہے۔

مقامی آبادی نے محکمہ انہار کے متعلقہ سب انجینئر، ٹھیکیدار غلام رسول کمپنی اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر موقع کا معائنہ کیا جائے، ریمپ کی تکنیکی خامیوں کو دور کیا جائے، نکاسیٔ آب کا مستقل اور مؤثر نظام بنایا جائے اور متاثرہ علاقوں کے مکینوں کو ممکنہ جانی و مالی نقصان سے بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کیے جائیں۔

اہلِ علاقہ نے حکومت پنجاب، محکمہ انہار اور ضلعی انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ بارشوں کے دوران متعدد مکانات کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔

Exit mobile version