جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں میں مبینہ ہوشربا اضافے نے غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
شہریوں کے مطابق شہر میں ایل پی جی 600 روپے فی کلو جبکہ مضافاتی علاقوں میں 650 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے، جس کے باعث پہلے ہی مہنگائی کا سامنا کرنے والے خاندانوں کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ایل پی جی کی سرکاری قیمت میں کمی کے دعووں کے باوجود ضلع جہلم میں گیس فروخت کرنے والے بعض دکاندار مبینہ طور پر من مانے نرخ وصول کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق سرکاری نرخ تقریباً 280 روپے فی کلو مقرر ہونے کے باوجود صارفین کو 600 سے 650 روپے فی کلو کے حساب سے ایل پی جی خریدنا پڑ رہی ہے۔
عوامی حلقوں کے مطابق ایل پی جی کی قیمتوں میں اس مبینہ اضافے کا سب سے زیادہ بوجھ دیہاڑی دار مزدوروں، کم آمدنی والے خاندانوں اور ان گھریلو صارفین پر پڑ رہا ہے جو کھانا پکانے کے لیے گیس سلنڈروں پر انحصار کرتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ استعمال کی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث پہلے ہی گھریلو بجٹ شدید دباؤ کا شکار ہے جبکہ گیس کی قیمتوں میں اضافے نے مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔
شہریوں نے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور پیرا فورس کی جانب سے مبینہ گراں فروشی کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام کو متعدد مرتبہ زبانی اور تحریری شکایات پیش کر چکے ہیں، تاہم ان کے بقول قیمتوں پر کنٹرول کے حوالے سے تاحال خاطر خواہ بہتری دیکھنے میں نہیں آئی۔
سماجی اور عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور پیرا فورس کے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ایل پی جی کی فروخت کے نرخوں کی فوری جانچ پڑتال کی جائے، سرکاری قیمتوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور زائد قیمتیں وصول کرنے والے دکانداروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
شہریوں نے اس امر پر بھی زور دیا ہے کہ ضلع بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں کی باقاعدہ نگرانی کا نظام موثر بنایا جائے تاکہ صارفین کو مقررہ نرخوں پر گیس کی فراہمی ممکن ہو سکے اور مہنگائی سے پریشان عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔
