جہلم شہر میں مضر صحت اور مردہ جانوروں کے گوشت کی فروخت دیدہ دلیری سے جاری، میونسپل کمیٹی سے قصاب نے سلاٹر ہاؤس کا ٹھیکہ لیکر قصابوں کو مضر صحت گوشت فروخت کرنے کی اجازت دے دی، میونسپل کمیٹی سلاٹر ہاؤس کے ٹھیکیدار نے قصابوں نے ہفتہ وار وصولی طے کر لی۔
رپورٹ کے مطابق جہلم شہر اور گردونواح میں مضر صحت اور مردہ اور بیمار جانوروں کے گوشت کی فروخت دیدہ دلیری سے جاری ہے۔ رواں سال میونسپل کمیٹی سے عمر قریشی اور فیصل قریشی نے ستر لاکھ میں سلاٹر ہاؤس کا ٹھیکہ حاصل کیا۔
ٹھیکے کی ماہانہ قسط پوری کرنے کے لیے سلاٹر ہاؤس کے ٹھیکیدار نے قصابوں سے سات ہزار، دس ہزار، پندرہ ہزار اور بیس ہزار روپے منتھلی طے کرلی ہے جبکہ میونسپل کمیٹی کی پرچی چھوٹے چھوٹے گوشت کی ایک سو اور بڑے گوشت کی دوسو روپے ہے۔
ذرائع کے مطابق سلاٹر ہاؤس کے ٹھیکدار خود بھی قصاب ہیں اور منتھلی کے عوض تمام قصابوں کو مہروں کے بغیر مردہ،لاغر جانوروں کا گوشت فروخت کرنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ مردہ اور بیمار جانوروں کے گوشت کے استعمال سے لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں، انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
شہریوں نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ میونسپل کمیٹی کے قصاب ٹھیکیدار کا سلاٹر ہاؤس کا ٹھیکہ منسوخ کیا جائے اور مضر صحت گوشت فروخت کرنے والے قصابوں کے خلاف کارروائی کی جائے ۔
