جہلم میں روٹی کا بحران شدت اختیار کر گیا، نان بائیوں کی ہڑتال چوتھے روز میں داخل

جہلم میں روٹی کا بحران سنگین صورتحال اختیار کر گیا، نان بائیوں کی ہڑتال آج چوتھے روز میں داخل ہو گئی۔
شہری علاقوں سمیت مختلف مقامات پر تندور بند ہونے کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شہری روٹی کے حصول کے لیے دربدر پھرنے پر مجبور ہیں جبکہ متعدد علاقوں میں لوگ دور دراز مقامات سے روٹی خریدنے کی کوشش کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
نان بائیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ مہنگائی میں 14 روپے فی روٹی کے سرکاری نرخ پر کاروبار چلانا ممکن نہیں رہا۔ ان کے مطابق آٹے، گیس، لکڑی اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ہیں، جس کی وجہ سے سرکاری نرخ پر روٹی فروخت کرنا نقصان کا سودا بن گیا ہے۔
نان بائیوں نے حکومت کی جانب سے فراہم کیے جانے والے سرکاری آٹے کے معیار پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکاری آٹا ناقص معیار کا ہے، جس سے تیار کی جانے والی روٹی شہری خریدنے سے گریز کرتے ہیں۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کا مو قف ہے کہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ 14 روپے روٹی کے نرخ پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی نان بائی کو من مانے نرخ وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انتظامیہ اور نان بائیوں کے درمیان مذاکرات تاحال کامیاب نہ ہو سکے، جس کے باعث شہری بدستور مشکلات کا شکار ہیں جبکہ شہر میں روٹی کے بحران پر عوامی تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔



