جہلم میں عالمی یومِ جنگلات خاموشی سے گزر گیا، شہریوں اور ماہرین ماحولیات کا اظہارِ تشویش

جہلم: ضلع جہلم میں اس سال پہلی مرتبہ عالمی یومِ جنگلات مکمل خاموشی کے ساتھ گزر گیا، جس پر شہریوں اور ماحول دوست حلقوں نے شدید افسوس اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ہر سال 20 مارچ کو دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی عالمی یومِ جنگلات منایا جاتا ہے، جس کا مقصد جنگلات کی اہمیت کو اجاگر کرنا، شجرکاری کے فروغ کے لیے عوام میں آگاہی پیدا کرنا اور ماحول کے تحفظ کے حوالے سے شعور بیدار کرنا ہوتا ہے۔
ماضی میں ضلع جہلم میں محکمہ جنگلات کی جانب سے اس موقع پر آگاہی واکس، سیمینارز اور خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا تھا تاکہ عوام کو درخت لگانے اور جنگلات کے تحفظ کی اہمیت سے آگاہ کیا جا سکے۔
تاہم رواں سال ضلع جہلم میں محکمہ جنگلات کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر سمیت کسی بھی سطح پر کوئی نمایاں سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ نہ آگاہی واک منعقد کی گئی، نہ سیمینار یا کوئی خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس پر شہریوں نے اسے محکمہ جنگلات کی عدم توجہی اور غفلت قرار دیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی، درختوں کی کمی اور بڑھتی ہوئی آلودگی جیسے سنگین مسائل کے پیش نظر ایسے مواقع پر عوام میں شعور اجاگر کرنا نہایت ضروری ہے، مگر اس اہم دن کو نظر انداز کرنا لمحہ فکریہ ہے۔
ماہرین ماحولیات کے مطابق جنگلات کسی بھی ملک کے ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے، آلودگی کے خاتمے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے عالمی یومِ جنگلات جیسے اہم دن کو نظر انداز کرنا انتہائی تشویشناک امر ہے۔
شہریوں نے وفاقی و صوبائی حکام بالخصوص وزیر جنگلات سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور ذمہ دار افسران سے وضاحت طلب کی جائے کہ ضلع جہلم میں اس اہم عالمی دن پر آگاہی سرگرمیوں کا انعقاد کیوں نہیں کیا گیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ماحول کے تحفظ اور شجرکاری کے فروغ کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔



