تحریک تحفظ آئین پاکستان کی عوامی رابطہ مہم، قافلہ جہلم سے روانہ

17

تحریک تحفظ آئین پاکستان نے عوامی رابطہ مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ مہم کی قیادت پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کر رہے ہیں۔ آج صبح قافلہ اسلام آباد سے بذریعہ جی ٹی روڈ لاہور کے لیے روانہ ہوا جو جہلم پہنچا جہاں قافلے کا استقبال کیا گیا۔

محمود خان اچکزئی نے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہم کسی کو فتح کرنے یا پتھر مارنے نہیں نکلے بلکہ ہمارا مقصد آئین کی حفاظت کرنا اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔ انہوں نے 28 فروری کو ملک گیر احتجاج کی کال بھی دی۔

محمود خان اچکزئی کے مطابق یہ 3 روزہ دورہ عوامی رابطہ مہم ہے، جس کا مقصد اسٹریٹ موبلائزیشن کو فروغ دینا اور آئین کی بالادستی کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنا ہے۔

قافلے میں بڑی تعداد میں گاڑیاں شامل ہیں اور مختلف مقامات پر تحریک تحفظ پاکستان کے رہنماؤں کا پرتپاک استقبال کیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کھاریاں کے مقام پر ایم پی اے تنویر اسلم راجا اور ملک فہد مسعود کی گاڑی پر نقاب پوش نامعلوم افراد نے حملہ کرتے ہوئے گاڑی کے شیشے توڑ دیے اور گرفتار کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے قافلے کو جہلم کے قریب روک لیا گیا۔ پی ٹی آئی کے امجد خان نیازی اور ظفر اقبال گوندل کو پولیس نے حراست میں لے کر تھانہ سٹی جہلم منتقل کر دیا۔

اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی معین ریاض قریشی کا اپنے ویڈیو بیان میں کہنا تھا کہ ہم اسلام آباد سے پرامن طریقے سے لاہور کے لیے نکلے ہیں لیکن کھاریاں کے مقام پر پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن اراکین کی گاڑیوں پر لاٹھی چارج کیا گیا اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت کیا چاہ رہی ہے؟ کیا آپ مستقبل میں پنجاب اسمبلی کو مفلوج کرنا چاہ رہے ہیں؟ پولیس کی جانب سے اپوزیشن کے ایم پی ایز کی گاڑیوں پر لاٹھی چارج کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ اس دورے کا مقصد اسٹریٹ موبلائزیشن اور آئین کی بالادستی کے لیے عوامی رابطہ مہم قرار دیا جا رہا ہے۔

تحریک کے ترجمان کے مطابق یہ قافلہ محمود خان اچکزئی کے گھر سے روانہ ہوا اور پنجاب کی اپوزیشن جماعت کے لیڈر معین قریشی کی سربراہی میں اتحادی رہنما بھی اس میں شامل ہوئے۔

سینیئر نائب صدر علامہ راجہ ناصر عباس، نائب صدر مصطفیٰ نواز کھوکھر، سیکرٹری جنرل اسد قیصر سمیت دیگر اہم رہنما بھی اس دورے میں شریک ہیں۔ لاہور پہنچنے پر قافلہ سیاسی اور سماجی شخصیات سے ملاقاتیں کرے گا، جبکہ کئی اہم سیاسی رہنما تحریک میں شمولیت کا اعلان کریں گے۔

پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ دورے کے دوران تحریک کے سربراہ محمود خان اچکزئی پنجاب اسمبلی کا دورہ کریں گے اور کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی رہنماؤں شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد اور میاں محمود الرشید سے ملاقات کی کوشش کریں گے۔

اس سلسلے میں پنجاب حکومت کو درخواست دی جائے گی۔ تحریک کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ مہم آئین کی بحالی اور جمہوریت کی حفاظت کے لیے ہے، اور عوام کو ظلم کے خلاف متحد کرنے کا آغاز ہے۔

محمود خان اچکزئی نے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ظلم مٹانے نکلے ہیں، آؤ ہمارے ساتھ چلو۔ یہ صرف ایک دورہ نہیں بلکہ آئین کی بالادستی کی تحریک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 8 فروری کو شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی، جس میں بسیں، ٹرک اور دیگر ٹرانسپورٹ بند رہیں گی، اور پاکستان کی سڑکوں پر عوام کا راج ہوگا۔

لاہور میں تحریک کی قیادت کی آمد کے پیش نظر سیکیورٹی انتظامات سخت کردیے گئے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق تحریک تحفظ پاکستان کے لاہور دورے کی وجہ سے رہنماؤں اور کارکنان کے گھروں پر چھاپوں اور گرفتاریوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ تحریک کے رہنما اخونزادہ حسین احمد نے اسے نیٹ پریکٹس قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پنجاب کے عوام کو ساتھ ملا کر بڑی تحریک کی تیاری ہے۔

اپوزیشن اتحاد نے حال ہی میں 27ویں آئینی ترمیم کی مذمت کی تھی اور ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ تحریک کے قائدین کا کہنا ہے کہ یہ عوامی رابطہ مہم آئین کی حفاظت اور شفاف انتخابات کے مطالبے کو مزید تقویت دے گی۔ لاہور میں عوامی اجتماعات، پریس کانفرنسز اور جیل میں قید رہنماؤں سے ملاقاتوں کا پلان موجود ہے۔

فوکل پرسن پنجاب بریگیڈیئر (ر) مشتاق نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے باعث صوبائی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور مختلف شہروں میں تحریک انصاف کے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ گوجر خان میں قافلے کے استقبال کے لیے آنے والے کارکنوں پر پولیس نے کریک ڈاؤن کیا۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت کے مطابق یہ دورہ پنجاب میں عوامی رابطہ مہم کا اہم حصہ ہے، جس کے دوران آئین کی بالادستی اور جمہوری حقوق کے لیے آواز بلند کی جائے گی۔

Exit mobile version