جہلم: ایکسائز دفتر میں عرصہ دراز سے تعینات کلریکل اور انسپکٹرز’ افسران کیلئے کماؤ پوت بن گئے

جہلم: محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن دفتر میں عرصہ دراز سے تعینات کلریکل اور انسپکٹرز’ افسران کے ماتھے کا جھومر بن گئے۔
محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں بھرتی ہونے سے لے کر آج تک ایک ہی دفتر میں ایک ہی سیٹ پر تعینات جو کہ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے ارباب اختیار کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ، کلرک اور انسپکٹرز جن کی تنخواہیں 30 سے 40 ہزار روپے ہیں، مگر شاہانہ زندگیاں مہنگی ترین گاڑیاں، عالیشان گھر ، طور طریقے نوابوں والے حرام کی کمائی سرچڑھ کر بول رہی ہے۔
محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن دفتر میں تعینات کلریکل سٹاف اور انسپکٹرزجو کہ محکمہ میں بھرتی ہونے سے آج تک ایک سیٹ پر براجمان ہیں ،محکمہ ایکسائز دفتر کو ماہانہ لاکھوں روپے کا نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ایکسائز دفتر کے اعلی افسران کے لیے ، کماؤ پتر ماتھے کا جھومر بنے ہوئے ہیں۔
شہری تنظیموں کے عمائدین نے ڈی جی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سے مطالبہ کیاہے کہ ایکسایز دفتر جہلم میں تعینات عملے کے اثاثے چیک کروائے جائیں جو کہ ماہانہ لاکھوں روپے کا نقصان کر رہے ہیں۔
شہری تنظیموں نے ڈی جی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ جہلم کھلی کچہری کا انعقاد کیا جائے تاکہ شہریوں کو پیش آنے والی مشکلات اور ایکسائز دفتر میں ہونے والی انتظامی و مالی بدعنوانیوں کو بے نقاب کیا جا سکے۔



