دو رویہ سڑک؛ پک رہی ہے، پکنے دو!

یہ تحصیل جہلم اور تحصیل پنڈ دادنخان کو ملانے والی دو رویہ سڑک بھی کسی نازک مزاج دلہن کی طرح ہے، جو نہ جلدی تیار ہوتی ہے اور نہ کسی کی بات سنتی ہے۔ لگتا ہے سڑک کے ٹھیکیدار اور باورچی میں کوئی خفیہ معاہدہ ہو چکا ہے کہ سڑک کو ایسے پکانا ہے جیسے دیگ میں بریانی پکائی جاتی ہے—آہستہ آہستہ، دم دے کر، اور آخر میں مصالحہ لگا کر!

جگہ جگہ کھودی گئی مٹی اور ادھوری تعمیر دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ شاید یہاں کوئی آثار قدیمہ کا منصوبہ چل رہا ہے۔ ہر شخص اپنے ذہن میں نقشہ بنا رہا ہے کہ آخر یہ سڑک کس طرف جائے گی؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ سڑک کسی دوسرے گاؤں کو نکل جائے اور پنڈ دادنخان والے اپنے حق سے بھی محروم رہ جائیں۔

مسافروں کے لیے سڑک پر سفر کرنا کسی ایڈونچر سے کم نہیں۔ ادھر آپ نے گاڑی سڑک پر ڈالی، ادھر جھٹکے شروع! لگتا ہے کہ سڑک کسی قسم کے "فری تھراپی سیشن” کا اہتمام کر رہی ہے، جس میں آپ کی ہڈیوں کو سیدھا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہو۔ ڈرائیور بھی اس ایڈونچر کا بھرپور مزہ لے رہے ہیں، ہر جھٹکے پر گاڑی کی "ڈانس پرفارمنس” دیکھ کر قہقہے لگاتے ہیں۔

ادھوری سڑک پر کھڑے مزدور ایسے مطمئن نظر آتے ہیں جیسے انہوں نے دنیا فتح کر لی ہو۔ ایک صاحب نے حالیہ انٹرویو میں بتایا:

"یہ سڑک پک رہی ہے، لیکن ابھی دم دینا باقی ہے۔”

دم دینے کا یہ سلسلہ کب ختم ہوگا، یہ کوئی نہیں جانتا۔ لیکن خوشخبری یہ ہے کہ حکومت کے ایک نمائندے نے وعدہ کیا ہے کہ سڑک جلد مکمل ہو جائے گی۔ مسئلہ یہ ہے کہ "جلد” کا مطلب سرکاری لغت میں "کئی سال” ہوتا ہے۔

پنڈ دادنخان کے عوام سے گزارش ہے کہ گھبرانا نہیں! سڑک کی تعمیر کے اس سفر میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ آخر کار، یہ سڑک ایک دن دو رویہ ضرور بنے گی، چاہے اس کے لیے عوام کے صبر کا کچا پل ہی کیوں نہ ٹوٹ جائے!

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button