جہلم: عیدالاضحیٰ کی آمد کے ساتھ ہی ضلع بھر میں قائم سرکاری ویٹرنری اسپتالوں اور ڈسپنسریوں میں جانوروں کی ادویات کی مبینہ قلت کے باعث شہریوں اور مویشی پال حضرات کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری ویٹرنری اسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی کے بجائے عملہ مبینہ طور پر جانوروں کے مالکان کو میڈیکل اسٹوروں سے ادویات خریدنے کے لیے پرچیاں تھما دیتا ہے۔
ذرائع کے مطابق جانوروں کے علاج اور چیک اپ کے لیے آنے والے افراد کو اسپتالوں سے مفت ادویات فراہم نہیں کی جا رہیں، جس کے باعث شہری مہنگے داموں ادویات خریدنے پر مجبور ہیں۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ویٹرنری اسپتال اور ڈسپنسریاں ادویات کی خریداری کے لیے فنڈز کی کمی کا شکار ہیں تو حکومت پنجاب کو فوری نوٹس لینا چاہیے، خصوصاً عیدالاضحیٰ کے قریب جب قربانی کے جانوروں کے علاج معالجے کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔
شہریوں نے اس صورتحال کو لمحۂ فکریہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عید کے موقع پر جانوروں کے علاج کے لیے آنے والے افراد کو بنیادی سہولیات اور ادویات کی عدم فراہمی تشویشناک ہے۔
شہریوں نے بتایا کہ وہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن کو باقاعدہ درخواست دینے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔
ان کے مطابق گزشتہ روز کمشنر راولپنڈی کی آمد کے باعث ڈپٹی کمشنر مصروف تھے، جس کے باعث ملاقات نہ ہو سکی، تاہم آج ملاقات کر کے تحریری طور پر اصل صورتحال سے آگاہ کیا جائے گا۔
