مذہبی جماعت کا احتجاج؛ جہلم میں دوسرے روز بھی نظامِ زندگی مفلوج، سڑکیں اور پل بند، مسافر پریشان

جہلم: مذہبی جماعت کے احتجاج کے پیش نظر دوسرے روز بھی شہر میں معمولات زندگی بری طرح متاثر رہے۔ دریائے جہلم کے دونوں پلوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی ۔ پل بند ہونے سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، مسافر ذلیل و خوار ہونے لگے۔ متعدد کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق تحریک لبیک پاکستان (TLP) کے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے دریائے جہلم کے دونوں پلوں کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا جبکہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں۔

عینی شاہدین کے مطابق گاڑیوں کی لمبی قطاروں کے باعث مسافر، خواتین اور بچے گھنٹوں تک سڑکوں پر پھنسے رہے۔ کئی شہری پیدل سفر کرنے پر مجبور ہو گئے، جبکہ ٹریفک کی معطلی سے کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔

ذرائع کے مطابق پولیس نے مختلف علاقوں میں کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مار کر متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے دفعہ 144 کا نفاذ برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے، جو 8 اکتوبر سے 15 اکتوبر تک مؤثر رہے گی۔ ڈی سی آفس کے مطابق ضلع بھر میں ہر قسم کے اجتماع، احتجاج اور ریلیوں پر پابندی عائد ہے۔

Exit mobile version