جہلم کی سبزی و فروٹ منڈی میں مارکیٹ کمیٹی کے ذمہ داران کی مبینہ عدم توجہی کے باعث بعض تاجروں کی جانب سے چھوٹے دکانداروں سے اضافی رقم وصول کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس پر متاثرہ دکاندار سراپا احتجاج ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سبزی و فروٹ منڈی میں بعض تاجروں کی جانب سے بوریوں میں آنے والی سبزی اور جالیوں میں آنے والے پھلوں کو شاپر بیگز میں پیک کرکے چھوٹے دکانداروں سے فی شاپر 20 روپے اضافی وصول کیے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔
متاثرہ دکانداروں کا کہنا ہے کہ ایک شاپر کا وزن تقریباً 3 کلو گرام ہوتا ہے، تاہم پیکنگ کی مد میں وصول کی جانے والی اضافی رقم کے باعث انہیں اشیاء کی قیمت میں مزید اضافہ کرنا پڑتا ہے۔ دکانداروں کے مطابق سرکاری نرخ سے معمولی اضافی وصولی پر بھی پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی جانب سے ہزاروں روپے کے جرمانے عائد کر دیے جاتے ہیں، جو بالآخر چھوٹے دکاندار اپنی جیب سے ادا کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
چھوٹے دکانداروں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر منڈی میں اشیاء کی خریداری کے وقت ہی ان سے اضافی رقم وصول کی جا رہی ہے تو قیمت مقرر کرتے وقت اس اضافی لاگت کو نظرانداز کرنے سے انہیں مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ منڈی میں قیمتوں اور اضافی وصولیوں کے نظام کی مؤثر نگرانی کی جائے۔
متاثرہ دکانداروں نے صوبائی وزیر پنجاب زراعت سید محمد عاشق حسین شاہ سے مطالبہ کیا ہے کہ جہلم سبزی و فروٹ منڈی میں مبینہ اضافی وصولیوں کا فوری نوٹس لیا جائے، معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور اگر شکایات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، تاکہ چھوٹے دکانداروں اور صارفین کو غیر ضروری مالی بوجھ سے نجات مل سکے۔
