جہلم میں گرین بس سروس کی انتظار گاہوں کی عدم تعمیر پر شہری سراپا احتجاج

جہلم: حکومتِ پنجاب کی جانب سے شہریوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے شروع کی گئی گرین بس سروس کے آغاز کو دو ماہ گزرنے کے باوجود جہلم شہر اور گردونواح میں مسافروں کے لیے انتظار گاہیں تعمیر نہ ہو سکیں، جس پر شہریوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے ضلع جہلم کے عوام کے لیے پہلے مرحلے میں 15 گرین بسوں کا تحفہ دیا گیا تھا، جو مختلف روٹس بشمول چک دولت، منگلا کینٹ، سنگھوئی، جگدیو اور رڑیالہ پر چل رہی ہیں اور شہریوں کو سفری سہولیات فراہم کر رہی ہیں۔ تاہم منصوبے کے آغاز کے باوجود مسافروں کے لیے بس اسٹاپس پر انتظار گاہوں کی تعمیر تاحال مکمل نہیں ہو سکی۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ متعدد مقامات پر انتظار گاہوں کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں، جبکہ جہاں تعمیراتی کام شروع کیا گیا وہاں انتہائی ناقص میٹریل استعمال کیا جا رہا ہے۔ شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ مبینہ طور پر سیمنٹ کی کم مقدار جبکہ ریت زیادہ استعمال کی جا رہی ہے، جس سے نہ صرف تعمیر کا معیار متاثر ہو رہا ہے بلکہ سرکاری خزانے کو نقصان پہنچنے کا بھی خدشہ ہے۔

شہریوں نے انتظار گاہوں کی عدم موجودگی اور تعمیراتی کام میں مبینہ طور پر ناقص میٹریل کے استعمال پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ انتظار گاہوں کی تعمیر میں استعمال ہونے والے میٹریل کی شفاف تحقیقات کروائی جائیں اور ناقص تعمیر، سرکاری فنڈز کے ضیاع میں ملوث ٹھیکیدار اور ان کے مبینہ سرپرست عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

شہریوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ باقی ماندہ انتظار گاہیں مقررہ معیار اور طے شدہ ڈیزائن کے مطابق جلد از جلد مکمل کی جائیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت نوٹس نہ لیا گیا تو گرین بس سروس منصوبے کے بنیادی مقاصد متاثر ہو سکتے ہیں اور مسافروں، بالخصوص خواتین، بزرگوں اور طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عوام نے متعلقہ حکام سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ شہریوں کو باعزت اور محفوظ سفری سہولیات میسر آ سکیں۔

Exit mobile version