26
جہلم میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد پنجاب پروٹیکشن اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی بل 2025ء کی معطلی کے حوالے سے شہری حلقوں میں مخلوط جذبات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ تاہم شہریوں کی اکثریت نے عدالت کے اس فیصلے کو انتہائی متحسن قرار دیتے ہوئے پراپرٹی بل کی منظوری کو حکومت پنجاب کا ایک پسندیدہ اقدام قرار دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے پراپرٹی بل کی ہائی کورٹ کی جانب سے معطلی کے فیصلے پر جارحانہ موقف اختیار کیا اور کہا کہ یہ عدالتی فیصلہ اعلیٰ عدلیہ کے طے شدہ مسلم اصولوں کے خلاف ہے اور اس سے قبضہ مافیا کو فائدہ پہنچے گا۔ دہائیوں سے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے لاکھوں شہریوں کی مدد کے لیے یہ قانون بنایا گیا تھا، اور پراپرٹی بل کی منظوری کے پیچھے وزیر اعلیٰ کی نیک نیتی پر کوئی شک نہیں کیا جا سکتا۔
ذرائع کے مطابق ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹیوں کے فیصلوں کے خلاف اپیلیشن کا حق دیا گیا اور ریٹائرڈ ججز کی سربراہی میں ٹریبونل بھی قائم کیے گئے، تاکہ اراضی کے طویل عرصے سے التوا میں پڑے مقدمات کے حل کے امکانات پیدا ہوں۔ تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ نوے روز کے اندر فیصلے کرنا عملی طور پر ممکن نہیں، کیونکہ کمیٹی کے پاس جادو کی چھڑی نہیں کہ پٹواریوں کے ریکارڈ پر انحصار کرتے ہوئے فوری طور پر قبضہ واگزار کرا سکے، اور اس طرح کے فیصلوں میں دھونس اور دھاندلی کا عنصر نمایاں ہو سکتا ہے۔
شہریوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ نوے روز میں کیے گئے فیصلوں سے بعض اصل حقداروں کے حقوق تو محفوظ ہوئے، مگر کئی دیگر اصل مالکان سے قبضہ واگزار کرانے میں مشکلات باقی رہیں۔ جب پٹواریوں کے فراہم کردہ ریکارڈ کی بنیاد پر فیصلے کیے جاتے ہیں تو شفافیت پر سوال اٹھتا ہے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹی کے فیصلے بعض معاملات میں ماروائے عدالت قرار دیے جا سکتے ہیں، کیونکہ تمام آبادی دیہہ کے قبضے واگزار کرانا کمیٹی کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کو چاہیے کہ کارکردگی دکھانے کے لیے فیصلے عجلت میں نہ کریں، بلکہ سوچ بچار اور مشاورت کے بعد فیصلے کیے جائیں، تاکہ عجلت میں کیے گئے فیصلوں کے نتیجے میں غیر ضروری قباحتیں پیدا نہ ہوں اور سب شہریوں کے حقوق محفوظ رہیں۔
