آئیسکو کی جانب سے میٹر کرایہ وصولی پر صارفین میں تشویش، اضافی چارجز کے خلاف احتجاج

جہلم: آئیسکو کی جانب سے بجلی صارفین پر میٹر کرایہ کے نام پر اضافی مالی بوجھ ڈالے جانے کے انکشاف پر شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گھریلو صارفین سے بجلی میٹر کرایہ کی مد میں 400 سے 500 روپے جبکہ کمرشل صارفین سے ایک ہزار روپے تک ماہانہ وصول کیے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ متاثرہ صارفین کا کہنا ہے کہ بجلی کے بل پہلے ہی ٹیکسز، فیول ایڈجسٹمنٹ اور دیگر سرچارجز سے بھرے ہوتے ہیں، جبکہ اب میٹر کرایہ کے نام پر اضافی رقم وصول کرنا عوام کا کھلا استحصال ہے۔
صارفین کا کہنا ہے کہ گھریلو اور کمرشل صارفین سے ماہانہ بنیادوں پر اضافی رقم وصول کی جا رہی ہے، جس نے پہلے سے مہنگائی کے شکار عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
شہریوں کے مطابق بجلی کے بلوں میں ان چارجز کی واضح تفصیلات بھی فراہم نہیں کی جاتیں، جس کے باعث شکوک و شبہات مزید بڑھ رہے ہیں۔ عوامی حلقوں نے اس اضافی بوجھ کو موجودہ مہنگائی کے دور میں ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سفید پوش اور غریب طبقہ پہلے ہی شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ حکومت ایک جانب عوام کو ریلیف دینے کے دعوے کرتی ہے جبکہ دوسری جانب بجلی کے بلوں میں نئے نئے چارجز شامل کر کے مشکلات میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ شہریوں نے اس اقدام کو ظلم قرار دیتے ہوئے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔
صارفین نے وزیراعظم پاکستان، چیف جسٹس آف پاکستان، وفاقی محتسب اور وفاقی وزیر پانی و بجلی سے اپیل کی ہے کہ میٹر کرایہ کی مد میں وصول کی جانے والی رقم کا نوٹس لیا جائے اور اس اضافی چارج کو فوری طور پر ختم کیا جائے تاکہ غریب اور متوسط طبقہ سکھ کا سانس لے سکے۔



