اماراتی ویزہ ایمنسٹی سکیم کی آڑ میں جعلسازوں کے فراڈ کا انکشاف

دبئی: متحدہ عرب امارات حکومت کی جانب سے شروع کی جانے والی ویزہ ایمنسٹی سکیم کی آڑ میں جعلسازوں کے غیرملکیوں خاص طور پر پاکستانیوں سے فراڈ کا انکشاف ہوگیا۔

خلیج ٹائمز کے مطابق متحدہ عرب امارات کا دو ماہ کا عام معافی پروگرام اتوار یکم ستمبر سے شروع ہو رہا ہے، جس کے تحت غیر قانونی رہائشیوں اور وزٹ ویزے پر زیادہ قیام کرنے والوں کو اپنی حیثیت کو قانونی بنانے یا جرمانے کے بغیر اپنے آبائی ملک واپس جانے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

تاہم اس دوران ایک نیا فراڈ بھی سامنے آیا ہے، جس میں دھوکہ باز کم قیمتوں پر رہائشی ویزوں کی دھوکہ دہی کی پیشکش کرکے غیرملکیوں کو اپنے جال میں پھنسا رہے ہیں، جس نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

جبل علی اور سونا پور میں مقیم چند غیرملکیوں نے بتایا ہے کہ ان سے لوگوں نے 5 ہزار درہم تک کے رہائشی ویزہ حاصل کرنے کے وعدے کے ساتھ رابطہ کیا ہے، ایک 35 سالہ پاکستانی شہری جو اس وقت متحدہ عرب امارات میں ویزہ سے زیادہ قیام کر چکا ہے، اس نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ "مجھے ٹائپنگ سینٹر کے ایگزیکٹو نے بتایا اگر میں اپنی حیثیت کو قانونی کرنے کے بعد نوکری حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا تو میں یو اے ای میں رہائش جاری رکھ سکتا ہوں، جب میں ٹائپنگ سینٹر سے باہر نکلا تو ایک دھوکہ باز میرے پاس پہنچا اور مجھے چائے پیش کرکے بات چیت کا آغاز کیا”۔

پاکستانی شہری نے بتایا کہ "اس شخص نے مجھے صرف 5 ہزار درہم میں رہائشی ویزہ دینے کا وعدہ کیا، یہ بات سننے میں بہت اچھی لگ رہی تھی اور جب میں نے کمپنی کے بارے میں مزید تفصیلات طلب کیں اور پوچھا وہ کس عہدے کا ویزہ پیشکش کر رہے ہیں تو وہ ٹال مٹول کرنے لگے، جس سے میں چوکنا ہوگیا کیوں کہ میں نے اپنی غیر قانونی حیثیت کی وجہ سے پچھلے 3 سالوں سے اپنے بچوں کو نہیں مل سکا اور اب میں کسی ایسی غلطی کا متحمل نہیں ہوں جس سے مجھے اپنے اعمال پر پچھتانا پڑے”۔

اسی طرح سونا پور میں مقیم ایک دوسرے 39 سالہ اوور اسٹیئر پاکستانی کو بھی چند دھوکہ بازوں نے اپنے رہائشی اسٹیٹس کی تجدید اور نیا ویزہ جاری کرنے کے لیے رابطہ کیا، اانہوں نے بتایا کہ "میرا کل جرمانہ 70 ہزار درہم سے زیادہ ہے، خان نام کے ایک شخص نے ایک دو بار مجھ سے رابطہ کیا کہ میں نئی ​​زندگی شروع کروں، وہ مجھے دلکش پیشکشیں دے رہا ہے۔

اس نے مجھے بتایا 8 ہزار درہم میں میرے تمام جرمانے ختم ہو جائیں گے اور مجھے متحدہ عرب امارات میں اپنی زندگی شروع کرنے کے لیے نیا رہائشی ویزہ مل جائے گا، لیکن میں اس کے بار بار رابطے کی وجہ سے اس پر یقین نہیں کرسکتا، متحدہ عرب امارات حکام کی اس نئی سکیم کے ساتھ میں نوکری تلاش کرنے کی کوشش کروں گا اور پھر بغیر کسی پریشانی کے اس ملک میں رہوں گا”۔

بتایا گیا ہے کہ سونا پور کا ایک اور رہائشی تامل ناڈو سے تعلق رکھنے والا بھارتی شہری اپنے وزٹ ویزہ کی میعاد ختم ہونے کے بعد تقریباً ایک سال سے متحدہ عرب امارات میں پھنسا ہوا ہے اور اپنی حیثیت کو قانونی شکل دینے کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ان کا کہنا ہے کہ "پچھلے کچھ دنوں کے دوران جیسے ہی معافی کی مدت کا اعلان ہوا، مجھ سے رابطہ کیا گیا ان میں سے چند لوگوں نے مجھے کم قیمت پر 6 ہزار درہم میں رہائشی ویزہ حاصل کرنے کی پیشکش کی لیکن ان میں سے کسی کا دفتر یا کوئی مناسب سیٹ اپ نہیں تھا، میں نے سنا ہے کچھ لوگ اس جال میں پھنس بھی گئے ہیں”۔

امیگریشن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ گھوٹالے اوور اسٹیئرز کی مایوسی سے فائدہ اٹھانے کے لیے بنائے گئے ہیں جو اپنی حیثیت کو قانونی بنانے کے لیے فوری اور سستا طریقہ تلاش کر رہے ہیں، سیون سٹی ڈاکومنٹ کلیئرنگ سروسز کے محمد داؤد شہاب الدین نے کہا کہ "دھوکے باز ایمنسٹی کی مدت کا فائدہ اٹھا رہے ہیں تاکہ زیادہ رہائش پذیر افراد کو جعلی پیشکشوں کے ذریعے راغب کیا جا سکے، اس لیے لوگوں کو محتاط رہنا چاہیئے اور صرف تسلیم شدہ ایجنٹوں سے یا براہ راست سرکاری حکام سے ہی رابطہ کرنا چاہیئے”۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button