جہلم میں بے لگام مہنگائی اور گراں فروشی، سفید پوش طبقہ بُری طرح متاثر

جہلم میں بے لگام مہنگائی نے سفید پوش طبقہ اور غریب عوام کا جینا دوبھر کر دیا۔

ایک طرف مہنگائی کی لہر نے عام شہریوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے تو دوسری طرف دکانداروں نے خود ساختہ گراں فروشی کے ذریعے صارفین کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا ہے۔

حکومت پنجاب کی جانب سے جاری کردہ سرکاری نرخنامے مذاق بن کر رہ گئے ہیں، دکاندار سرعام اضافی قیمتوں پر اشیائے خوردونوش فروخت کر رہے ہیں جبکہ انتظامیہ نرخوں پر عملدرآمد کرانے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہی ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری اہلکار صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہیں اور عملی طور پر کوئی ریلیف فراہم نہیں کیا جا رہا۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور گراں فروشی نے غریب اور سفید پوش طبقے کا کچومر نکال دیا ہے، اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو حالات مزید سنگین ہو جائیں گے۔

شہریوں نے زور دیا کہ مارکیٹ کمیٹیاں اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس باقاعدہ طور پر چیکنگ کریں اور سرکاری نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنائیں تاکہ غریب عوام اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی مہیا کر سکیں۔

عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

Exit mobile version