صحابہ کرامؓ کی سیرت رہنمائے انسانیت ہے، نیکی پر فخر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگنی چاہیے۔ امیر عبدالقدیر اعوان

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا ہے کہ صحابہ کرامؓ وہ عظیم ہستیاں ہیں جن کے اٹھائے ہوئے مبارک قدم رہتی دنیا تک امت مسلمہ کے لیے رہنمائی اور منزل کا نشان ہیں۔ اس عظیم مقام کے باوجود وہ اپنے اعمال پر فخر کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی سے دعا کرتے تھے کہ اگر ان کے اعمال میں کوئی کمی یا کوتاہی رہ گئی ہو تو اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرما دے۔

امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ اور سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر صحابہ کرامؓ جیسی عظیم شخصیات بھی اللہ تعالیٰ سے بخشش کی دعا کرتی ہیں تو پھر کسی دوسرے انسان کو اپنی نیکیوں پر غرور یا فخر کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی اصولوں میں ہر انسان کے لیے بھلائی اور خیر پوشیدہ ہے۔ ایک صاحبِ ایمان اپنی خواہشات اور ذاتی پسند و ناپسند کو اسلامی تعلیمات کے تابع کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مومن کو چاہیے کہ وہ اپنا مسلسل محاسبہ کرے اور آئینے کی طرح اپنے اعمال کا جائزہ لیتا رہے کہ کہیں وہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز تو نہیں کر رہا۔

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ عبادات کو دنیاوی مفادات یا لین دین کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔ یہ کہنا کہ "میں نے اتنی عبادات کیں لیکن پھر بھی میری ضروریات پوری نہیں ہوئیں”، عبادت کے حقیقی مقصد کے منافی ہے۔ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہونی چاہیے، نہ کہ کسی دنیاوی منفعت کے حصول کے لیے۔ صاحبِ ایمان ہر حال میں کامیاب ہوتا ہے کیونکہ اس کی نیت، عمل اور مقصد اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا حصول ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قرآن و سنت کی تعلیمات انسان کے انفرادی، خاندانی اور معاشرتی تمام معاملات میں خیر و بھلائی کا سرچشمہ ہیں۔ اگر معاشرہ قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارے تو ہر رشتے میں عزت، احترام، محبت اور تقدس پیدا ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار اس دنیا میں عام مخلوق کے لیے ممکن نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان بے شمار حجابات ہیں، البتہ انبیائے کرامؑ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص قربت سے نوازا، انہیں شرفِ ہم کلامی عطا فرمایا اور حضور اکرم ﷺ کو معراج کی عظیم نعمت سے سرفراز کیا۔

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہر مومن کو ایسی بندگی نصیب فرمائے کہ وہ ہر لمحہ اپنے رب کی حضوری کا احساس رکھے۔ نورِ ایمان انسان کو اپنے عیوب اور غلطیوں کا ادراک عطا کرتا ہے، اس لیے سچا مومن اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرتا ہے اور ان کی اصلاح کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ درجۂ احسان کے حصول کے لیے فرائض کی مکمل ادائیگی کے بعد قربِ الٰہی کے حصول کی نیت سے مجاہدہ اور مسلسل روحانی محنت اختیار کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو صحیح شعور، اخلاص، تقویٰ اور اپنی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔

خطاب کے اختتام پر امیر عبدالقدیر اعوان نے پاکستان کی سلامتی، استحکام، ترقی اور امت مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کے لیے خصوصی اجتماعی دعا بھی کرائی۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button