جہلم میں گزشتہ چند روز سے صبح کے اوقات میں بادلوں، ٹھنڈی ہواؤں اور ہلکی بوندا باندی نے موسم کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے۔ شدید گرمی اور حبس سے نڈھال شہریوں نے موسم کی اس خوشگوار تبدیلی پر سکھ کا سانس لیا ہے، تاہم مسلسل ابر آلود موسم کے باعث سولر سسٹم استعمال کرنے والے صارفین کو بجلی کی پیداوار میں کمی کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چند روز قبل تک ضلع بھر میں شدید گرمی کی لہر برقرار تھی، جبکہ طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رکھا تھا۔ مختلف علاقوں میں روزانہ 6 سے 8 گھنٹے تک بجلی کی بندش کے باعث معمولاتِ زندگی، کاروباری سرگرمیاں اور گھریلو امور شدید متاثر ہو رہے تھے۔
حالیہ دنوں میں بادلوں کی آمد، ٹھنڈی ہواؤں اور صبح کے اوقات میں ہلکی بوندا باندی کے باعث موسم میں نمایاں خوشگوار تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جمعرات کے روز شہر کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 32 سے 33 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ٹھنڈی ہواؤں نے گرمی کی شدت میں مزید کمی کر دی۔ شہر کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے بادلوں کی آمد و رفت نے بھی موسم کو خوشگوار بنائے رکھا۔
دوسری جانب مسلسل ابر آلود موسم نے سولر توانائی استعمال کرنے والے گھریلو اور تجارتی صارفین کے لیے نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ سورج کی روشنی میں کمی کے باعث سولر پینلز کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کو متبادل ذرائع سے بجلی حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ بعض مقامات پر بجلی کی لوڈشیڈنگ کے دوران سولر سسٹم مطلوبہ بیک اپ فراہم کرنے سے بھی قاصر ہیں۔
شہریوں نے امید ظاہر کی ہے کہ موسم کی یہ خوشگوار تبدیلی برقرار رہے گی، تاہم متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ میں مزید کمی لائی جائے تاکہ ابر آلود موسم کے دوران بھی صارفین کو بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
