جہلم میں مرغی کا گوشت سستا، کھانوں کی قیمتیں برقرار، من مانی قیمتیں وصول کی جانے لگیں

جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں جنگل کاقانون نافذ، مرغی کاگوشت 437 روپے فی کلو ، ہوٹلز مالکان نے چکن کڑاھی 1800 روپے، چکن تکہ 1440روپے فی درجن کے حساب سے فروخت شروع کررکھی ہے۔ ضلع بھر میں اشیاء خوردونوش کی من مانی قیمتیں وصول کی جانے لگیں، بیف کباب والوں نے بھی لوٹ مار کا بازار گرم کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق مرغی کے گوشت کا سرکاری نرخ 437 روپے فی کلو مقرر ہے جبکہ ہوٹلز مالکان گاہکوں کو چکن ہانڈی 1800 روپے کے حساب سے فروخت کررہے ہیں جبکہ چکن تکہ 1450 روپے فی درجن کے حساب سے فروخت کیا جارہاہے۔
شہریوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ مرغی کا گوشت جب 800 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کیاجارہا تھا تب چکن لیگ پیس 400 روپے میں فروخت ہورہا تھا اور چکن تکہ کا ریٹ 1440 روپے مقرر تھا ، اب چکن 437روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہورہاہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ بااثر ہوٹلز مالکان اور باربی کیو بنانے والوں نے نرخوں میں کمی کرنے کی بجائے لوٹ مار کا بازار گرم کررکھا ہے جبکہ انتظامیہ نے نہ آج تک باربی کیو اور ہوٹلز پر گوشت کے معیار اور مقدار کو چیک کرنے کی کبھی زحمت گورا کی اور نہ ہی بار بی کیو اور ہوٹلز کے نرخ ناموں کو چیک کیا ، جس کی وجہ سے ضلع بھرکے ہوٹلز و بار بی کیو مالکان خود کو قانون سے مبرا سمجھتے ہوئے لوٹ مارکا بازار گرم کررکھا ہے۔
شہری تنظیموں کے عمائدین نے ڈپٹی کمشنر ایڈوائزر صوبائی محتسب پنجاب سے مطالبہ کیاہے کہ مہنگائی کا سبب بننے والے ہوٹلز و باربی کیو مالکان کے خلاف کارروائیاں کی جائیں تاکہ مہنگائی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔



