جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں گرانفروشی عروج پر پہنچ گئی جبکہ مصنوعی مہنگائی اور منافع خور مافیا کے باعث شہری شدید پریشانی کا شکار ہو گئے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ گراں فروشوں پر قابو پانے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے، جبکہ دکاندار سرکاری نرخنامے کو نظر انداز کرتے ہوئے من مانی قیمتوں پر اشیائے خوردونوش فروخت کر رہے ہیں۔
گائے اور بکرے کے گوشت، مرغی، دودھ، دہی، پھل، سبزیوں، مصالحہ جات، چینی، گھی، چاول اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مہنگائی میں کمی اور عوام کو ریلیف دینے کے دعوے صرف اعلانات تک محدود نظر آتے ہیں، جبکہ عملی طور پر ضلع بھر میں مصنوعی مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔
متاثرہ شہریوں کے مطابق ہول سیل ڈیلرز اور دکانداروں نے متعدد اشیاء پر سو فیصد سے زائد منافع وصول کرنا معمول بنا لیا ہے، جبکہ سرکاری پرائس لسٹ صرف کاغذی کارروائی بن کر رہ گئی ہے۔
عوام نے الزام عائد کیا کہ مقامی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس گرانفروشی پر قابو پانے میں ناکام نظر آ رہے ہیں، جس کے باعث منافع خور عناصر کھلے عام شہریوں کو لوٹ رہے ہیں۔
شہریوں اور سماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم سے فوری نوٹس لینے، پرائس کنٹرول نظام کو مؤثر بنانے اور ذخیرہ اندوزوں و گراں فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ عوام کو مہنگائی سے ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
