جہلم: مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں ایک بار پھر ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے عوام کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ مہنگائی میں کمی سے متعلق حکومتی دعوے مکمل طور پر زمین بوس ہو چکے ہیں۔
جہلم شہر اور اس کے گرد و نواح میں مرغی کے گوشت کی قیمتیں دوبارہ بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جہاں چکن کا گوشت تقریباً 750 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہو رہا ہے۔
کچھ روز قبل اس میں معمولی کمی دیکھنے کو ملی تھی جس پر شہریوں نے سکھ کا سانس لیا تھا، مگر یہ کمی عارضی ثابت ہوئی اور قیمتیں ایک مرتبہ پھر تیزی سے بڑھنا شروع ہو گئیں۔
صرف مرغی ہی نہیں، بلکہ دیگر گوشت کی قیمتوں میں بھی بے قابو اضافہ ہو چکا ہے۔ گائے کے گوشت کے سرکاری نرخ 800 روپے فی کلو مقرر ہیں، مگر قصاب 1000 سے 1200 روپے فی کلو تک فروخت کر رہے ہیں۔
اسی طرح بکرے کے گوشت کے سرکاری نرخ 1600 روپے فی کلو ہیں، مگر مارکیٹ میں دیدہ دلیری سے 2000 سے 2200 روپے فی کلو تک فروخت جاری ہے، جس میں اکثر اوقات مادہ جانوروں کا گوشت شامل ہوتا ہے۔
شہریوں نے اس بڑھتی ہوئی مہنگائی پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اربابِ اختیار، بالخصوص وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور ضلعی انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قصاب من مانی قیمتوں پر گوشت فروخت کر کے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں اور ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں تاکہ مہنگائی پر قابو پایا جا سکے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فوری اور سخت اقدامات نہ کیے تو قربانی کے تہوار سے قبل گوشت عام آدمی کی دسترس سے مکمل طور پر باہر ہو جائے گا۔
