محکمہ ایکسائز کی ست روی، رجسٹریشن کارڈز بننا بھی بند ہو گئے

جہلم: محکمہ ایکسائز کی ست روی ، رجسٹریشن کارڈز بننا بھی بند ہو گئے، شہری گاڑیوں کے کارڈز کی فیسیں ادا کرنے کے باوجود اہم کوائف سے محروم ہیں۔

جہلم سمیت پنجاب بھر میں 85لاکھ سے زائد کارڈز فراہم کرنے والی کمپنی نے کنٹریکٹ ختم ہونے کے بعد فیکٹری میں کام بند کر دیا۔ محکمہ ایکسائز کے افسران کی سستی وعدم توجہی کی وجہ سے کنٹریکٹ ختم ہونے کے 5 ماہ بعد تا حال نئے کنٹریکٹ کا پراسس نہ کیا جا سکا، 5 سال قبل رجسٹریشن کارڈز کی تیاری کا کیا گیا۔

کنٹریکٹ مئی 2023میں ختم ہونے کے بعد متعلقہ کمپنی نے عارضی توسیع کے بعد 4لاکھ کارڈز تیار کئے اور معاہدے کے مطابق ڈیمانڈ پوری کر کے رپورٹ بھیجوا دی، 80 ہزار سے زائد رجسٹریشن کارڈز کی 3 کروڑ سے زائد ر قم کی ادائیگی کا مراسلہ بھی بھجوا دیا۔

ایکسائز ذرائع کے مطابق نجی کمپنی کے ساتھ 438 روپے فی کارڈ فراہمی کا پانچ سالہ کنٹریکٹ کیا گیا تھا۔ بروقت رجسٹریشن کارڈز کے حوالے سے فیصلہ نہ کیا گیا تو نمبر پلیٹس کے بعد سمارٹ کارڈز کا بحران سنگین ہو جائے گا۔

شہریوں کی 25 لاکھ نمبر پلیٹس زیر التوا ہیں جبکہ رجسٹریشن کارڈز بھی اڑھائی لاکھ زیر التوا ہیں، رواں ماہ میں نمبر پلیٹس کا کنٹریکٹ بھی ختم ہو جائے گا ۔

Exit mobile version