جہلم: منشیات کیسز میں جرم ثابت ہونے پر خاتون سمیت 2 مجرمان کو قید اور جرمانے کی سزائیں سنا دی گئیں۔
تفصیلات کے مطابق جہلم کی معزز عدالت نے منشیات فروشی کے دو مختلف مقدمات کا فیصلہ سناتے ہوئے خاتون سمیت دو مجرمان کو قید اور جرمانے کی سزائیں سنا دی ہیں۔ دونوں مقدمات میں جہلم پولیس کی مؤثر تفتیش اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر عدالت نے مجرمان کو قرار واقعی سزا دی۔
عدالت نے منشیات مقدمہ نمبر 608/24 بجرم CNSA 9(2)6 تھانہ سٹی کا فیصلہ سنایا۔ مقدمے میں مجرمہ شگفتہ جبار پر سال 2024 میں منشیات فروشی ثابت ہوئی، جس پر عدالت نے اسے پانچ سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔ جہلم پولیس نے مجرمہ کو ٹریس کر کے گرفتار کیا، ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان عدالت پیش کیا اور مقدمے کی مؤثر پیروی کی، جس کے نتیجے میں سزا عمل میں آئی۔
اسی طرح عدالت نے منشیات مقدمہ نمبر 15/25 بجرم CNSA 9(2)5 تھانہ سٹی کا بھی فیصلہ سنایا۔ اس مقدمے میں مجرم افسر علی پر سال 2025 میں منشیات فروشی ثابت ہوئی، جس پر عدالت نے اسے ایک سال قید اور 20 ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔ اس کیس میں بھی جہلم پولیس نے مجرم کو گرفتار کر کے شواہد کے ساتھ چالان پیش کیا اور کامیاب پیروی کی۔
اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم شفیق احمد چوہدری نے کہا کہ منشیات فروش معاشرے کا ناسور ہیں اور ان کے مکمل خاتمے کے لیے جہلم پولیس کا بھرپور آپریشن جاری رہے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ نوجوان نسل کو منشیات کے عذاب سے بچانے کے لیے بلا امتیاز کارروائیاں کی جا رہی ہیں اور آئندہ بھی قانون شکنی کرنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
