62
جہلم میں سوئی گیس کے حالیہ بلوں نے صارفین کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ عوام بجلی کے بھاری بلوں کو بھول کر سوئی گیس کے غیر معمولی بلوں پر سراپا احتجاج بن گئے ہیں۔ اچانک آنے والے بھاری بلوں نے شہریوں کے گھریلو بجٹ کو تہس نہس کر کے رکھ دیا ہے۔
رواں ماہ موصول ہونے والے سوئی گیس کے بلوں میں چھوٹے گھرانوں کو 5 ہزار جبکہ بڑے گھرانوں کو 10 سے 50 ہزار روپے تک کے بل موصول ہوئے ہیں۔ اسی طرح کمرشل صارفین، جن میں ہوٹلز، سویٹس شاپس اور میرج ہالز شامل ہیں، کو لاکھوں روپے کے بل بھیجے گئے ہیں۔ ان بھاری بلوں کے باعث نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ کاروباری طبقہ بھی شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو چکا ہے۔
متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے ان حالات میں گیس کے بل ادا کرنا ناممکن ہو گیا ہے، جس کے باعث کئی افراد قرض لینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ پہلے ہی بجلی کے بلوں نے عوام کی کمر توڑ رکھی تھی، اب سوئی گیس کے بلوں نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
سوئی گیس محکمے کے ذرائع کے مطابق محکمہ نے تین ماہ کے لیے ایک نئی پالیسی نافذ کی ہے، جس کے تحت 80 یونٹس سے زائد گیس استعمال کرنے والے صارفین کو ایلیٹ کیٹیگری میں شامل کر کے بھاری بل بھیجے جائیں گے۔ مقررہ یونٹس سے زائد استعمال پر صارفین پر تقریباً تین ہزار روپے اضافی ٹیکس بھی عائد کیا جائے گا، جبکہ یہ پالیسی بلا تعطل تین ماہ تک جاری رہے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 80 یونٹس تک استعمال کرنے والوں کو نسبتاً کم، یعنی سفید پوش طبقے کے مطابق بل موصول ہوں گے اور اس پالیسی میں کسی قسم کی تبدیلی کا امکان نہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ان حالات میں غریب عوام کے لیے چولہا جلانا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ صارفین نے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور وفاقی وزیر برائے پٹرولیم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری مداخلت کر کے اس عوام دشمن پالیسی کو ختم کروائیں، تاکہ غریب اور متوسط طبقہ اپنے اہلِ خانہ کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کر سکے۔
