ای بائیک اسکیم صرف طلباء و طالبات کے لیے مختص تھی تو عام شہریوں سے درخواستیں کیوں وصول کی گئیں؟ درخواست دہندگان کا سوال

پڑی درویزہ: وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے اعلان کردہ ای بائیک اسکیم کے حوالے سے صوبہ بھر کے ایسے شہریوں میں تشویش پائی جا رہی ہے جنہوں نے بطور عام شہری آن لائن درخواستیں جمع کروائی تھیں، تاہم اب انہیں معلوم ہوا ہے کہ یہ اسکیم صرف تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم طلباء و طالبات کے لیے مختص ہے۔شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر اس اسکیم کا مقصد صرف طلباء و طالبات کو ای بائیکس فراہم کرنا تھا تو پھر عام شہریوں سے درخواستیں کیوں وصول کی گئیں؟
تفصیلات کے مطابق گزشتہ ماہ سوشل میڈیا پر وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے ای بائیک اسکیم کا اعلان سامنے آیا تھا، جس کے لیے درخواستیں جمع کروانے کی آخری تاریخ 4 اکتوبر 2026ء مقرر کی گئی تھی۔ مقررہ تاریخ تک صوبہ بھر سے طلباء و طالبات سمیت بڑی تعداد میں عام شہریوں نے بھی انٹرنیٹ پورٹل کے ذریعے اپنی درخواستیں آن لائن جمع کروائیں۔
درخواست دہندگان کے مطابق پورٹل پر موجود درخواست فارم میں واضح طور پر یہ وضاحت نہیں کی گئی تھی کہ اسکیم صرف تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم طلباء و طالبات کے لیے ہے۔ اس وجہ سے عام شہریوں نے بھی خود کو اہل سمجھتے ہوئے درخواستیں جمع کروائیں اور اسکیم سے فائدہ اٹھانے کی امید باندھ لی۔
تاہم جب درخواستوں کا اسٹیٹس چیک کرنے کا مرحلہ آیا تو متعدد عام شہریوں کو معلوم ہوا کہ ان کی درخواستوں میں ہونہار طالب علم یا طالبہ ہونے کی تصدیق موجود نہیں یا پنجاب بینک کا اکاؤنٹ ظاہر نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں آن لائن پورٹل پر اہلیت کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے پر بتایا گیا کہ کسی تعلیمی ادارے میں زیرِ تعلیم نہ ہونے والے درخواست دہندگان اس اسکیم کے تحت آسان اقساط پر ای بائیک حاصل کرنے کے اہل نہیں ہیں۔
اس صورتِ حال کے سامنے آنے کے بعد صوبہ بھر کے ایسے شہریوں میں مایوسی پھیل گئی جنہوں نے عام شہری کی حیثیت سے درخواستیں جمع کروائی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اسکیم کی اہلیت پہلے ہی واضح کر دی جاتی تو وہ بلاوجہ درخواستیں جمع کروانے اور امیدیں وابستہ کرنے سے گریز کرتے۔
متاثرہ درخواست دہندگان نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور ای بائیک اسکیم کے دوسرے مرحلے کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے عام شہریوں کو بھی شامل کرنے پر غور کیا جائے تاکہ وہ بھی آسان اقساط پر موٹر سائیکل حاصل کر سکیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اسکیم کے دوسرے مرحلے میں تمام درخواست دہندگان کو مناسب شرائط کے تحت موقع فراہم کیا جائے تاکہ کسی طبقے میں احساسِ محرومی پیدا نہ ہو۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ کسی بھی سرکاری اسکیم کے لیے درخواستیں وصول کرنے سے قبل اہلیت اور شرائط واضح طور پر بیان کی جائیں، تاکہ شہریوں کو غیر ضروری مشکلات اور پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔



