القادر یونیورسٹی کے باہر احتجاج کیس میں فراز چوہدری سمیت نامزد پی ٹی آئی کارکنان بری

جہلم: بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری کے خلاف پی ٹی آئی ضلع جہلم کے سابق جنرل سیکرٹری فراز چوہدری کی قیادت میں القادر یونیورسٹی سوہاوہ کے باہر ہونے والے احتجاج سے متعلق مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔

عدالت نے احتجاج کے مقدمے میں نامزد فراز چوہدری اور سید ابرار حسین شاہ سمیت پاکستان تحریک انصاف ضلع جہلم کے تمام کارکنان کو باعزت بری کر دیا ہے۔ مقدمے میں خواتین کارکنان بھی شامل تھیں۔

عمران خان کی گرفتاری کے خلاف القادر یونیورسٹی سوہاوہ کے باہر ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے متعدد کارکنان کو حراست میں لیا تھا، جن میں سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کے بھائی فراز چوہدری بھی شامل تھے۔ بعد ازاں قانونی کارروائی مکمل ہونے پر تمام گرفتار کارکنان کو رہا کر دیا گیا تھا جبکہ مقدمہ عدالت میں زیرِ سماعت رہا۔

ذرائع کے مطابق اس مقدمے میں کارکنان پر مختلف الزامات عائد کیے گئے تھے، تاہم مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ کارروائی سیاسی بنیادوں پر کی گئی اور اس کا مقصد پارٹی کارکنان کو دباؤ میں لانا تھا۔

دو سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی عدالتی کارروائی اور متعدد پیشیوں کے بعد معزز عدالت جناب وقاص مرتضیٰ مجسٹریٹ کی عدالت نے دفعہ 30 کے تحت فیصلہ سناتے ہوئے سید ابرار حسین شاہ اور دیگر تمام نامزد ملزمان کو باعزت بری کرنے کا حکم جاری کیا۔

عدالتی فیصلے کو سیاسی و عوامی حلقوں کی جانب سے حق اور انصاف کی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔ مقدمے کے دوران مختلف قانونی رکاوٹوں اور پیچیدگیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا، تاہم وکلا کی مسلسل اور مؤثر کاوشوں کے نتیجے میں بالآخر فیصلہ ملزمان کے حق میں آیا۔

Exit mobile version