جہلم شہر اور گردونواح میں اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا، جبکہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی عدم دلچسپی کے باعث گران فروشوں نے من مانے نرخ مقرر کر رکھے ہیں، جس کے باعث شہری مہنگے داموں خریداری پر مجبور ہو چکے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق شہر اور مضافاتی علاقوں میں سبزیاں، پھل، چینی، گوشت اور دیگر ضروری اشیاء سرکاری نرخنامے سے کہیں زیادہ قیمتوں پر فروخت کی جا رہی ہیں۔ چینی 170 روپے فی کلو کی بجائے 200 روپے کلو، بکرے کا گوشت 1600 روپے کی بجائے 2500 روپے فی کلو، گائے کا گوشت 800 روپے کی بجائے 1200 سے 1400 روپے فی کلو اور برائلر گوشت 600 روپے کے بجائے 700 روپے ساڑھے آٹھ سو گرام تک فروخت ہو رہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ ضروریات کی اشیاء کی قیمتیں ان کی قوتِ خرید سے باہر ہو چکی ہیں، جب کہ متعلقہ انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی عدم کارروائی نے گراں فروشوں کو کھلی چھوٹ دے دی ہے۔
مزید برآں، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، یوٹیلیٹی بلز، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باعث مہنگائی میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے، جس سے غریب اور متوسط طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔
عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری اور ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے، اور گران فروشوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، تاکہ مہنگائی کے مارے عوام کو ریلیف دیا جا سکے۔
