راجہ پورس کو ایک عرصہ تک جان بوجھ کر تاریخ میں منفی انداز میں بیان کیا گیا۔ دراصل یہ نوآبادیاتی سوچ تھی جس کے ذریعے مقامی ہیروز کو کم تر دکھانا مقصود تھا حالانکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ سکندر اعظم جنگ ہائڈسپس ( جہلم ) میں فتح یاب ہونے کے باجود بھی آگے نہیں بڑھ پایا تھا اور اس نے دنیا فتح کرنے کے ارادے کو وہیں ختم کردیا اور اپنےدیس کی طرف روانہ ہوگیا۔ ہمیں اس وقت کے تاریخی واقعات کے بارے میں معلومات سکندر اعظم کے ساتھ سفر کرنے والے مورخین سے ملتی ہیں۔
تاریخی روایات کے مطابق ہائڈسپس کی جنگ موجودہ کھڑی شریف آزاد کشمیر کے قریب ہوئی تھی۔ سکندر اعظم نے فتح تو حاصل کرلی تھی مگر اس قدر مشکل سے۔ مورخین کہتے ہیں کہ سکندر اعظم کی فوجیں انتہائی تھک چکی تھیں اس لیے مزید پیش قدمی رک گئی۔
مورخین کے مطابق راجہ پورس کی موت جنگ جہلم کے کافی سال بعد ہوئی تھی تاہم اس دوران وہ سکندر اعظم سے صلح کی حالت میں رہا۔ راجہ پورس کے بعد اسکی بیٹی منگلا نے عنان حکومت سمبھالا ۔ کیونکہ سکندر اور پورس کی لڑائی میں پورس کا داماد راجہ اجے دت بھی مارا گیا جو جموں کے علاقے کا حکمران بتایا جاتا ہے۔
اس کے بعد پورس کی بیٹی منگلا رانی نے اپنے باپ اور خاوند کی سلطنت کی باگ ڈور سنبھال لی۔ منگلا ایک خوبصورت، جنگجو اور اعلی ٰ اوصاف کی مالک رانی تھی۔ اس کی راجدھانی منگلا ڈیم کے کنارےپر قلعہ منگلا میں تھی جو آج بھی موجود ہے۔ منگلا ڈیم بننے سے پہلے یہاں منگلا مائی کے نام کا گاؤں بھی موجود تھا جو جھیل میں آگیا۔
”رانی منگلا نے کاروبار حکومت احسن طریقے سے چلایا، لیکن پھر اس کی زندگی کا رخ بدل گیا اور اس نے ایک جوگن کا روپ اختیار کر لیا۔ ذہنی سکون کے متلاشی لوگ دور دراز سے اس کے ہاں آتے اور دل کی تسکین پاتے۔ وہ روحانی نغمے گاتی اور لوگ وجد میں رقص کناں ہوتےتاریخی ریکارڈ بتاتے ہیں۔
ایک روایت یہ بھی ہے کہ اس نے منگل کا دن درشن کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ اسی نسبت سے وہ منگلا دیوی کہلائی۔ آج بھی اس قلعے میں تین مندر موجود ہیں۔
البیرونی نے لکھا ہے کہ اس نے رانی منگلا کی مورتی اس قلعے میں موجود مندر میں دیکھی تھی۔ لیکن شاید لوگ منگلا رانی اور منگلا دیوی کو ایک ہی سمجھتے ہیں حالانکہ یہ دو مختلف کردار ہیں۔ منگلا دیوی جس کا ذکر مہا بھارت میں بھی ہے اس کا تعلق مالابار سے تھا اور ا س کا اصل نام پریمالا تھا، جو جوگن بنی اور ہندو مت میں اسے دیوی کا درجہ ملا۔
منگلا دیوی کا ایک مندر بھارتی شہر بنگلور کے پاس بھی ہے ۔ یہ تقریباً 2300 سال پہلے بھی بات ہے ۔ اس سے پہلے پنجاب میں کسی خاتون کے حکمران ہونے کا ذکر نہیں ملتا ۔ ملتان ایک الگ صوبہ کی حیثیت سے تھا۔ یہاں برلہاد کا مندر قدیم ہندو کہانیوں کے کردار کا مرکز بتایا جاتا ہے جہاں شہزادہ برلہاد اور ہولیکا رہتی تھی۔ ہندو مذہب میں ہولی کا تہوار اسی ہولیکا سے ماخوذ ہے ۔ یہ ہولیکا اپنے منفی کردار کی وجہ سے تاریخ کا حصہ بنی۔
