پڑی درویزہ/ سوہاوہ: بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پر سرکاری قبضہ، دیہاتی سرکاری اداروں میں سروے کیمپ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان اور عہدیداران کو مکمل طورپر نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔
ان اخیالات کا اظہار پاکستان پیپلز پارٹی تحصیل سوہاوہ کے مجوزہ نائب صدر ملک شفاقت حسین نے میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں کم آمدنی والے افراد کا سروے کرنے حالیہ دنوں دیہاتی علاقوں کے سرکاری اداروں میں سروے کیمپ منعقد کیے جا رہے ہیں لیکن مقامی سطح پر موجود پاکستان پیپلز پارٹی کے متحرک کارکنان یا عہدیداران کو مکمل طورپر نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ بے انکم سپورٹ پرگرام کی بانی سابق وزیر اعظم پاکستان شہید محترمہ بے نظیر بھٹوہیں اس لئے ا س پروگرام میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دیرینہ متحرکت کارکنان اور عہدیداران کا شامل ہونا بنیادی حق ہے ۔
ملک شفاقت حسین نے کہا کہ جہاں تک ضلع جہلم کا تعلق ہے تو 1977ء کے بعد سے مخصوص منصوبہ بندی اور سازش کے ذریعے ضلع بھر میں پاکستان پیپلز پارٹی کو عوامی رابطہ مہمات سے دور رکھا جاتا ہے ۔ جہاں تک مسلم لیگ ن کی مرکز حکومت کا تعلق ہے تو وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی وساطت سے ایسے مختلف پروگرام چلائے جا رہے ہیں جن سے پاکستان پیپلز پارٹی کی ساکھ بحال نہ ہو سکے ۔
اس صورت حال کے پیش نظر پڑی درویزہ سے مجوزہ نائب صدر پی پی پی تحصیل سوہاوہ ملک شفاقت حسین نے اخباری بیان میں پاکستان پیپلز پارٹی ضلع جہلم کے صدر چوہدری تسنیم ناصر گجر ، جنرل سیکریٹری مرزا عبدالغفار اور گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان سے صورت حال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تا کہ شہری اور دیہاتی علاقوں میں منعقد ہونے والے بی آئی ایس پی کے سروے کیمپ میں پی پی پی کے متحرک اور دیرینہ کارکنان ، عہدیداران کو برابر شامل رکھا جاسکے ۔
