پنڈدادنخان: جہلم کی تحصیل پنڈدادنخان میں تھانہ للِہ کے علاقہ منڈاھڑ میں شادی کی تقریب خوشی کے بجائے قیامت کا منظر بن گئی، آتش بازی کے دوران 14 سالہ غلام مصطفیٰ ولد جاوید اقبال بری طرح جھلس گیا۔ شدید زخمی حالت میں اُسے پرائیویٹ گاڑی کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ذرائع کے مطابق اس کی حالت تاحال تشویشناک ہے۔
واقعہ کے مطابق 14 سالہ غلام مصطفیٰ شادی کی تقریب میں جاری غیر قانونی آتش بازی کے دوران بارود پھٹنے سے جھلس گیا، جس کے نتیجے میں اس کے چہرے اور جسم کا تقریباً 50 فیصد حصہ متاثر ہوا۔ اُسے ابتدائی طبی امداد کے بعد اسلام آباد کے پمز اسپتال کے برن یونٹ میں بیڈ نمبر 1 پر منتقل کیا گیا ہے، جہاں وہ آئی سی یو میں زیر علاج ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے شادی کی تقریبات میں آتشبازی اور ہوائی فائرنگ پر مکمل پابندی عائد ہے، مگر اس کے باوجود تھانہ للِہ کی حدود میں کھلے عام قانون کی خلاف ورزی کی گئی۔
پولیس کی جانب سے ابتدائی طور پر روایتی کاغذی کارروائی کر کے ذاتی ملازمین پر مقدمہ درج کر دیا گیا، تاہم جب سوشل میڈیا پر واقعے کی شدید مذمت اور خبریں وائرل ہوئیں تو ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) جہلم طارق عزیز سندھو نے فوری نوٹس لے کر ایکشن لیا۔
ڈی پی او جہلم نے نہ صرف واقعے میں ملوث تین ملزمان کو گرفتار کروایا بلکہ ایس ایچ او تھانہ للِہ کو فرائض میں غفلت برتنے پر عہدے سے ہٹا کر پولیس لائن تبدیل کر دیا۔
ڈی پی او طارق عزیز سندھو نے اپنے بیان میں کہا کہ پنجاب حکومت کے ویژن کے مطابق کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور لاپرواہی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ پولیس کی ساکھ خراب کرنے والے اہلکار کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بہترین نظم و ضبط اور اعلیٰ تربیت ہی ایک اچھے پولیس افسر کی پہچان ہے، اور محکمے میں نااہل، کام چور اور بددیانت اہلکاروں کی کوئی گنجائش نہیں۔
