جہلم میں سوئی گیس کے بلوں میں اضافے کی وجہ سے صارفین سخت پریشان ، صارفین حکومت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سوئی گیس بلوں میں بے پناہ اضافہ ہونے پر صارفین کا سکون غارت ہو کر رہ گیا۔سوئی گیس صارفین کے لئے 500 سے 1 ہزارروپے والا بل 10 ہزار جبکہ 20 ہزار روپے والا بل 40 سے 50 ہزار روپے تک جا پہنچا جو کہ صارفین کی پہنچ سے باہرہوچکا ہے جس کیوجہ سے صارفین سخت پریشان اور سراپا احتجاج ہیں۔
دوسری جانب سوئی گیس صارفین کا کہنا ہے کہ سوئی گیس کے متعلقہ افسران کے پاس بھی گئے ہیں۔ سوئی گیس کے بلوں میں اضافے کی وجہ محکمہ سوئی گیس نہیں بلکہ حکومت اور اوگرا کی جانب سے گیس کے نرخوں میں کئی سال بعد اضافہ ہونے کی وجہ ہے کیونکہ پاکستان میں سوئی گیس کی پیداوار انتہائی کم ہو چکی ہے۔ سوئی ناردن گیس کی طرف سے بھجوائے گئے سوئی گیس کے بلوں میں بے پناہ اضافہ ہونے کی وجہ سے صارفین میں شدید غم و غصہ پایا جاتاہے۔
صارفین کا کہنا ہے کہ نگران حکومت نے مہنگائی کے اس مشکل دور میں سوئی گیس ، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ کر کے عوام پر بہت بڑا ظلم کیا ہے جو عوام والناس کو مار دینے کے مترادف ہے کیونکہ ہم پہلے ہی اپنے بچوں کو بڑی مشکل سے پال رہے ہیں اور اب سوئی گیس، بجلی کے بلوں نے عوام پر قہر ڈھایا ہے جس کی وجہ سے عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سوئی ناردن گیس کی طرف سے چند گھنٹے سوئی گیس سپلائی کی جاتی ہے، اعلانہ و غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے باوجود ہزاروں روپے کے سوئی گیس کے بل بھجوانا کہاں کا انصاف ہے، ہم یہ بل کس طرح ادا کریں۔ سوئی ناردن گیس کی طرف سے بھیجے گئے سوئی گیس کے بلوں میں بے پناہ اضافہ اور ٹیکسز شامل کرکے صارفین سے جینے کا حق بھی چھینا جا رہاہے۔
صارفین سوئی گیس نے ارباب اختیار سے بلوں میں کمی کرنے کا مطالبہ کیاہے ۔
